’آپریشن سندور‘ کے تحت ہندوستانی فوج کی سخت کارروائیوں نے پاکستان کو شدید دباؤ میں ڈال دیا تھا، جس کے بعد اب دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے لیے راحت کا باعث بنا ہے، کیونکہ ہندوستان کی جوابی کارروائیوں سے اسے لگاتار نقصان ہو رہا تھا۔
ہندوستانی وزارت خارجہ کے سکریٹری وکرم مسری نے جنگ بندی سے متعلق تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ 10 مئی بروز ہفتہ سہ پہر 3:35 بجے پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) نے ہندوستانی ڈی جی ایم او کو فون کیا، جس کے بعد بات چیت کا آغاز ہوا اور دونوں جانب سے زمین، فضا اور سمندر میں ہر قسم کی فوجی کارروائی اور گولہ باری شام 5 بجے سے بند کرنے پر اتفاق ہو گیا۔ دونوں ممالک نے اپنی افواج کو فوری طور پر اس معاہدے پر عمل درآمد کی ہدایت دے دی ہے۔ ڈی جی ایم اوز کے درمیان اگلی بات چیت 12 مئی کو دوپہر 12 بجے ہوگی۔
ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی امریکہ کی ثالثی کے نتیجے میں ممکن ہوئی، تاہم حکومت ہند نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بات چیت سے ہوا ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جنگ بندی کی تصدیق کی، مگر ہندوستان پر کیے گئے حملوں پر معافی مانگنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی امن اور سلامتی کے لیے کوشش کی ہے، بغیر اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ کیے۔






