لکھنؤ: اتر پردیش اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوسرے روز فتح پور کے قدیم مقبرے سے جڑے تنازعے نے ایوان کا ماحول گرما دیا۔ سماجوادی پارٹی (ایس پی) نے اس معاملے پر فوری بحث کا مطالبہ کیا اور حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ قائد حزب اختلاف ماتا پرساد پانڈے نے الزام عائد کیا کہ ایک سیاسی رہنما کی اپیل پر لوگوں نے مقبرے پر دھاوا بولا، جس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس حالات پر قابو پانے میں ناکام رہی اور حکومت کی نیت پر سوالیہ نشان لگ گیا۔
ایس پی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر سروش کھنہ نے کہا کہ واقعے سے حکومت یا انتظامیہ کا کوئی تعلق نہیں۔ رپورٹ درج ہو چکی ہے اور 10 افراد کو نامزد کر کے دیگر نامعلوم افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت ایکشن ہوگا۔
حکومتی وضاحت سے غیر مطمئن ایس پی ارکان اسمبلی نے ویل میں آ کر احتجاج کیا اور ایوان میں شور شرابہ کیا۔ ایس پی کی رکن اسمبلی پلوی پٹیل کی جانب سے ویڈیو بنانے پر اسپیکر ستیش مہانہ نے ہدایت دی کہ ویڈیوز فوراً ڈیلیٹ کی جائیں، بصورت دیگر کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ فتح پور میں ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے مبینہ طور پر تاریخی مقبرے میں زبردستی پوجا کرنے کی کوشش کی، زعفرانی پرچم لہرایا اور مزار کو نقصان پہنچایا۔ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جس سے ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔ پولیس کی بیریکیڈنگ کے باوجود بھیڑ قابو سے باہر ہو گئی، جس پر حکومت پر امن و امان برقرار رکھنے میں ناکامی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔
read more…..qaumiawaz.com






