نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے جمعہ کے روز بہار میں اسمبلی انتخابات سے قبل انتخابی فہرستوں کی جاری خصوصی نظرثانی (Special Summary Revision – SIR) کے معاملے میں الیکشن کمیشن کو واضح اور سخت ہدایت جاری کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ حذف شدہ ووٹروں کے کلیمز کو آدھار کارڈ یا دیگر 11 قابل قبول دستاویزات کے ساتھ قبول کیا جائے اور پورے عمل کو ووٹروں کے لیے آسان اور شفاف بنایا جائے۔ ساتھ ہی عدالت نے آن لائن کلیمز کی سہولت فراہم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
عدالت نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ آخر سیاسی جماعتیں SIR کے دوران حذف شدہ ووٹروں کے نام دوبارہ درج کروانے میں اتنی غیر فعال کیوں ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بتایا کہ اب تک بہار میں 85,000 نئے ووٹر شامل ہوئے ہیں، مگر سیاسی جماعتوں کے بوتھ سطح کے نمائندوں نے صرف دو اعتراضات درج کیے ہیں، جو کہ انتہائی کم تعداد ہے۔
سپریم کورٹ نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ الیکشن کمیشن نے عدالت کی سابقہ صلاح کے باوجود آدھار کو قابل قبول دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا تھا، جس پر حزبِ اختلاف اور سماجی کارکنان نے شدید احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آدھار کو نہ ماننے سے پسماندہ طبقات، خاص طور پر دلت، آدیواسی اور مسلمان، حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔
عدالت کے اس فیصلے سے انتخابی عمل کی شفافیت میں اضافہ ہوگا اور حذف شدہ ووٹروں کو ان کا حق واپس ملے گا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ تمام فریقین کو ذمہ داری سے کام لینا ہوگا تاکہ بہار میں منصفانہ اور شفاف انتخابات ممکن بن سکیں۔
read more…..qaumiawaz.com






