وزیر اعظم نریندر مودی جاپان کے دورے پر ہیں جہاں ان کی ملاقات جاپانی وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا سے ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے، جن کا مقصد بھارت اور جاپان کے درمیان اقتصادی و تیکنیکی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ جاپان نے آئندہ دس برسوں میں بھارت میں تقریباً چھ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جس سے صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
چار اہم شعبے جن میں تعاون بڑھایا جائے گا، وہ ہیں: سیمی کنڈکٹر چپس، اہم معدنیات، مصنوعی ذہانت، اور دواسازی۔ ان شعبوں میں اشتراک سے نہ صرف بھارت کی پیداواری صلاحیت بڑھے گی بلکہ اس کی برآمدات بھی مستحکم ہوں گی۔ مالی سال 2024-25 میں دونوں ملکوں کے درمیان 2.13 لاکھ کروڑ روپے کی تجارت ہوئی، جس میں بھارت نے جاپان سے زیادہ درآمدات کیں۔
آئی ایم ایف کے مطابق، بھارت نے جاپان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کا مقام حاصل کر لیا ہے۔ جاپان اب بھارت کی معاشی رفتار سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب چین اور جاپان کے تعلقات کشیدہ ہیں اور امریکہ کی تجارتی پالیسیوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
وزیر اعظم مودی کو جاپان کے ایک مندر کی جانب سے داروما گڑیا تحفے میں دی گئی، جو ثابت قدمی اور خوش بختی کی علامت ہے۔ یہ جاپانی ثقافت کا حصہ ہے اور کامیابی کے لیے لگن اور حوصلے کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس دورے سے یہ پیغام واضح ہوتا ہے کہ بھارت عالمی سیاست میں توازن کے ساتھ اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔
read more…..qaumiawaz.com






