نئی دہلی: ملک کے مختلف حصوں میں طوفانی بارش اور بادل پھٹنے کے واقعات نے عام زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، پنجاب، راجستھان، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور اوڈیشہ سمیت کئی ریاستیں بارش اور سیلابی صورتحال کی لپیٹ میں ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک درجنوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ متعدد مقامات پر قومی شاہراہیں زمین کھسکنے اور پانی بھرنے کے باعث بند ہیں، جس سے آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے اگلے 24 گھنٹوں کے لیے نیا الرٹ جاری کیا ہے۔ اس کے مطابق جموں و کشمیر، لداخ، ہماچل پردیش، شمالی پنجاب، شمالی ہریانہ، مشرقی راجستھان، اتر پردیش کے کچھ حصے، مدھیہ پردیش اور اوڈیشہ میں مزید موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ محکمہ نے بتایا کہ خلیج بنگال میں ہوا کے کم دباؤ کی وجہ سے اوڈیشہ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں بارش مزید بڑھ سکتی ہے۔
ہماچل پردیش میں صورتِ حال سنگین ہے جہاں 100 سے زائد سڑکیں بند ہو چکی ہیں اور آٹھ اضلاع میں بادل پھٹنے اور سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ جموں میں مکان گرنے کے حادثات میں ماں اور بیٹی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں جبکہ کئی دیہات میں درجنوں لوگ پانی میں پھنس گئے۔ چناب ندی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے، جس کے باعث جموں-سرینگر قومی شاہراہ سمیت اہم راستے بند ہیں۔
چھتیس گڑھ کے بلرام پور ضلع میں ایک چھوٹے ڈیم کا حصہ ٹوٹنے سے اچانک آئے سیلاب میں چار افراد ہلاک اور تین لاپتہ ہو گئے۔ ادھر راجستھان کے مختلف علاقوں میں بھاری بارش کے پیشِ نظر محکمہ موسمیات نے یلو اور اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔ کوٹہ، اجمیر، اودے پور اور بھرت پور ڈویژن میں اگلے دو دنوں تک شدید بارش کی پیش گوئی ہے۔
محکمہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ کسی بھی جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
read more…..qaumiawaz.com






