سپریم کورٹ نے وقف ایکٹ اور اس کی ترمیمات سے متعلق ایک اہم فیصلہ سنایا ہے، جس نے ملک بھر میں اس موضوع پر جاری بحث کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ پورے وقف ایکٹ پر روک لگانے کی کوئی بنیاد نہیں ہے، البتہ کچھ مخصوص دفعات پر عبوری حکم کے تحت روک لگائی گئی ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی غیر موجودگی میں چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس اے جی مسیح کی دو رکنی بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت قانون کی آئینی حیثیت کے حق میں قیاس کیا جاتا ہے، اس لیے کسی بھی قانون کو مکمل طور پر روکنا نایاب سے نایاب ترین صورت میں ہی ممکن ہے۔ بنچ نے کہا کہ وقف ایکٹ کے تحت بنائے گئے تمام التزامات پر پابندی لگانے کی ضرورت نہیں، تاہم کچھ دفعات کو تحفظ دینے کی فوری ضرورت محسوس کی گئی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ ہدایت بھی دی کہ وقف بورڈ میں تین سے زیادہ غیر مسلم رکن شامل نہیں کیے جا سکتے، جب کہ بورڈ کا چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) جہاں تک ممکن ہو مسلم ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کی اس شق پر روک لگا دی ہے، جس میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ وقف قائم کرنے والے کو کم از کم پانچ سال سے مسلمان ہونا ضروری ہوگا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس شرط کو لاگو کرنے کے لیے کوئی واضح نظام موجود نہیں ہے کہ کسی شخص کے مسلمان ہونے کی مدت کا تعین کیسے کیا جائے، اس لیے یہ دفعہ تاحال غیر مؤثر رہے گی۔
یہ فیصلہ ان درخواستوں پر سنایا گیا جو مختلف سیاسی جماعتوں، تنظیموں اور شخصیات نے دائر کی تھیں۔ ان میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی، عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، انڈین یونین مسلم لیگ، ڈی ایم کے، راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمان منوج جھا، ایس پی کے ضیا الرحمٰن برق اور دیگر شامل ہیں۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو عبوری نوعیت کا قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ وقف ایکٹ کے خلاف دی گئی عرضیوں پر حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا، لیکن موجودہ صورتحال میں پورے قانون پر روک لگانا ممکن نہیں۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی قانون کو مکمل طور پر غیر مؤثر کرنے کا قدم صرف انتہائی غیر معمولی حالات میں ہی اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس فیصلے کو وقف ایکٹ سے متعلق قانونی اور سیاسی بحث میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ پہلی بار عدالت نے کچھ دفعات پر روک لگانے کی بنیاد تسلیم کی ہے۔
read more….qaumiawaz.com






