اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی اور ان کے 2 وزراء کے خلاف انٹرنیشنل کورٹ میں مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔ میلونی نے اس تعلق سے خود ہی جانکاری دی اور کہا کہ ان پر غزہ میں نسل کشی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ اٹلی نے اسرائیل کے لیے اسلحہ مہیا کرائے، جس سے ہزاروں لوگوں کی غزہ میں موت ہوئی۔اٹلی کی سرکاری ایجنسی آر ٹی ای سے بات کرتے ہوئے میلونی نے کہا کہ یہ دنیا کا اپنی طرح کا واحد معاملہ ہے۔ یہ انتہائی حیرت انگیز ہے، ہم پر جو الزام عائد کیا گیا ہے، اُس میں کوئی دَم نہیں ہے۔ میرے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ پر بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اٹلی کی قومی شماریات ایجنسی کے مطابق 2022 سے 2023 تک میلونی کی حکومت نے 136.3 کروڑ روپے کے اسلحے اسرائیل کو فروخت کیے۔ اٹلی نے جو اسلحے اسرائیل کو دیے، ان میں بیشتر بحری توپیں، گولہ و بارود اور دیگر اسلحے شامل ہیں۔ 2023 میں بڑے پیمانے پر تنقید کے بعد میلونی نے اسرائیل کو ہتھیار فروخت کرنا بند کر دیا۔ اسرائیل اس کے بعد مکمل طور سے امریکہ سے ہی پورا اسلحہ خریدتا رہا ہے۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ غزہ پر میلونی کا اسٹینڈ ہمیشہ سرخیوں میں رہا ہے۔ ان پر ڈھلمل پالیسی اختیار کرنے کا الزام لگتا رہا ہے۔ میلونی نے اب تک ’2 اسٹیٹ‘ کے تحت فلسطین کو الگ ملک کی شکل میں منظوری بھی نہیں دی ہے، جبکہ روس، برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک نے فلسطین کو الگ ملک کی شکل میں منظوری دے دی ہے۔






