جاپان کے ایوان زیریں نے منگل (21 اکتوبر) کے روز سانے تکائیچی کو ملک کی پہلی وزیر اعظم کے طور پر منتخب کر کے تاریخ رقم کر دیا ہے۔ یہ لمحہ جاپان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ 64 سالہ سخت گیر لیڈر تکائیچی چین پر تنقید کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انھوں نے 465 رکنی ایوان میں 237 ووٹ حاصل کیے۔ وہ جاپانی بادشاہ ناروہیتو سے ملنے کے بعد باضابطہ طور پر وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالیں گی۔ سانے تکائیچی جاپان کی پانچویں وزیر اعظم بننے جا رہی ہیں، وہ وزیر اعظم شگیرو اشیبا کی جگہ لیں گی۔
جاپان میں تکائیچی کی جیت اس لیے بھی کافی اہم مانی جا رہی ہے کہ اب تک ملک کے تمام اہم عہدوں کی کمان مرد ہی سنبھال رہے تھے۔ وزیر اعظم جیسے باوقار اور عظیم عہدہ کے لیے تکائیچی کا انتخاب ملک کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔ واضح رہے کہ جاپانی پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد کافی کم ہے۔ ساتھ ہی ملک کی بڑی کمپنیوں میں مرد ہی تمام اہم عہدوں پر فائز ہیں۔
2024 کے ایل ڈی پی کی قیادت والے انتخاب میں سانے تکائیچی نے جاپان بینک کے ذریعہ سود کی شرح میں اضافے پر تنقید کی تھی۔ حالانکہ بینک کے گورنر کازو یوڈا نے کہا کہ سنٹرل بینک بغیر تعصب شرحیں طے کرے گا۔ سیاسی محاذ پر تکائیچی نے چین کے تئیں سخت رویہ اپنانے کی وکالت کی ہے اور وہ جاپان کے آئین میں ترمیم کی بھی حمایت کرتی ہیں۔ تکائیچی چین کے خلاف اپنے سخت رویہ کے لیے جانی جاتی ہیں۔ وہ ٹوکیو کے یاسوکونی مقبرہ جاتی ہیں، جو جاپان کی جنگ میں مارے گئے فوجیوں کو اعزاز بخشتا ہے اور اکثر پڑوسی ممالک کو ناراض کر دیتا ہے۔ وہ چین کو اپنا مرکزی حریف تصور کرتی ہیں۔ سابق وزیر اعظم آبے کی ہی طرح وہ جاپان کی فوج کو مضبوط کرنے کی سمت میں قدم اٹھانے کی حمایت کرتی ہیں۔






