ہندوستان نے جمعرات (30 اکتوبر) سے پاکستانی سرحد کے پاس اپنی سب سے بڑی مشترکہ فوجی مشق ’ترشول‘ کی شروعات کر دی ہے۔ یہ ٹرائی-سروس (بری، بحریہ، اور فضائیہ) مشق آئندہ ماہ 10 نومبر تک جاری رہے گی۔ واضح رہے کہ ’آپریشن سندور‘ کے 6 ماہ بعد یہ ہندوستان کی پہلی فوجی مشق ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق اس فوجی مشق کا مقصد پاکستان کو یہ واضح پیغام دینا ہے کہ ہندوستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مکمل طور سے تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر آپریشن سندور کا اگلا مرحلہ وہیں سے شروع کر سکتا ہے، جہاں رواں سال مئی میں رک گیا تھا۔
فوجی مشق ’ترشول‘ کا انعقاد گجرات اور راجستھان میں کیا جا رہا ہے، جس میں بنیادی توجہ کچھ علاقے پر ہے جو پاکستان کے ساتھ ممکنہ نئی کشیدگی کے مقام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حال ہی میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے گجرات کے سرکریک علاقہ میں ہندوستان کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو اس کا جواب تاریخ اور جغرافیہ دونوں کو بدل دے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ پاکستان نے سرکریک علاقوں میں نئی فوجی چوکیاں، بنکر، رڈار اور ڈرون لانچ بیس (ایف او بی ایس) تیار کیے ہیں، جس پر ہندوستان کی کڑی نظر ہے۔
دوسری جانب فوجی مشق شروع ہونے سے قبل ہی پاکستان نے اپنی فضائی حدود کے کئی حصوں کو بند کر دیا ہے۔ پاکستان کی ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک نوٹم (نوٹس ٹو ایئر مین) جاری کر وسطی اور جنوبی ہوائی راستوں پر 48 گھنٹوں کی پرواز پر پابندی عائد کر دی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ’ترشول‘ صرف ایک فوجی مشق نہیں ہے بلکہ ایک اسٹریٹجک اشارہ ہے کہ ہندوستان اب اپنی سلامتی اور سرحدی سالمیت کے معاملے میں کسی بھی چیلنج کے لیے تیار ہے۔






