ایک ہندوستانی نوجوان نے سوشل میڈیا پر اپنا ریل شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کروز شپ پر کام کرتا ہے اور ٹپ میں ملنے والے پیسے کو بچا کر اس نے 10 لاکھ روپے کی کار خریدلی ہے۔کروز شپ پر کام کرنے والے اس شخص کا دعویٰ ہے کہ وہ الگ الگ جہازوں پر کام کرتا ہے اور کروز شپ بلاگر بھی ہے۔ وہ جہاز پر گزارے گئے لمحات کو کیمرے میں قید کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کرتا رہتا ہے۔ اس نے ایسا ہی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے کام پر ملنے والی ٹپس سے 10 لاکھ روپے کی کار خریدی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر نام کے ہینڈل سے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنی اس پوسٹ کے ذریعہ اس نے شپ پر موجود یورپی اور امریکی مہمانوں کا ٹپس کی شکل میں اچھی خاصی رقم دینے کے لئے شکریہ ادا کیا۔پروین جوشیلکر نے انسٹاگرام پر لکھا کہ جب آپ کروز شپ پر کام کرتے ہیں تو آپ اپنی ٹپس سے سب کچھ خرید سکتے ہیں۔ اس نے وضاحت کی کہ وہ اپنی تنخواہ کو بچالیتا ہے۔ اس کا کام صرف ٹپس سے چل جاتا ہے۔اس نے پوسٹ میں بتایا کہ تنخواہ مستقبل کے لیے ہے بھائی! شیئر کی گئی تصویر میں وہ اپنی گاڑی کے قریب کھڑا نظر آ رہا ہے۔
پروین جوشیلکر کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کے مطابق وہ ایک کروز شپ مواد تخلیق کرنے والا آدمی ہے اور ایک اطالوی کروز جہاز پر بٹلر کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کا تعلق مہاراشٹر سے ہے۔ اس نے ہوٹل مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی ہے اور اپنی ویڈیوز اور ریلز کے ذریعے لوگوں کو کروز بحری جہازوں پر کیریئر بنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس کی پوسٹ پر بے شمار ردعمل سامنے آئے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ مبارک ہو بھائی آگے بڑھتے رہو، ایک اور نے لکھا کہ بہت خوب بھائی، وہیں ایک دیگر صارف نے لکھا کہ میں اس طرح کی نوکری کے لیے اپلائی کرنا چاہتا ہوں۔






