ممبئی کے پیدھونی علاقے میں رہنے والے ایک ہی خاندان کے 4 افراد کی پراسرار موت نے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ فی الحال اس پورے معاملے میں ممبئی پولیس ٹاکسیکولوجی رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے کیونکہ اسی سے صاف ہوگا کہ آخر موت کی اصل وجہ کیا تھی۔ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی ابتدائی تحقیقات میں کھانے پینے کی اشیاء میں کوئی بھی زہریلا یا نقصان دہ مادہ نہیں ملا ہے۔ افسران نے خاندان کے گھر سے 11 نمونے اکٹھے کیے تھے، جن میں بریانی، تربوز، فریج کا پانی، کچا اور پکا ہوا چاول، چکن، کھجور اور مصالحے شامل تھے۔ جانچ میں ملاوٹ کا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔
دوسری جانب پوسٹ مارٹم رپورٹ کچھ اور بتارہی ہے۔ رپورٹ میں متوفیوں کے جسم میں مارفین کی موجودگی پائی گئی ہے جو ایک طرح کی درد کش دوا ہے۔ اس کے علاوہ جسم کے کچھ بافتوں میں غیر معمولی سبز رنگ میں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ عام طور پر ایسی تبدیلی کسی زہریلے مادے کی وجہ سے ہو سکتی ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ زہر کیا تھا اور جسم میں کیسے داخل ہوا۔
یہ معاملہ 26 اپریل کو اس وقت سامنے آیا تھا جب 40 سالہ عبداللہ دوکاڈیا کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ انہوں نے ڈاکٹروں کو بتایا تھا کہ تربوز کھانے کے بعد عبداللہ، ان کی بیوی نسرین (35) اور ان کی دو بیٹیاں عائشہ (16) اور زینب (13) کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے حالت اس قدر بگڑ گئی کہ چاروں کی موت ہوگئی۔ پولیس نے اس معاملے میں حادثاتی موت کی رپورٹ درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔
اس سلسلے میں تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کو ہر زاویے سے دیکھ رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔ کلینا فرانزک لیب، ایف ڈی اے اور جے جے اسپتال کی تفصیلی رپورٹس کا انتظار کیا جارہا ہے۔ ٹاکسیکولوجی رپورٹ میں یہ واضح ہو گا کہ اس معاملے میں کسی قسم کے زہر کا استعمال ہوا تھا یا نہیں اور اگر ہوا تھا تو اس کا وقت کیا تھا۔







