نئی دہلی ، پاسپورٹ صرف ہندوستانی شہریوں کو جاری کیا جاتا ہے۔ تاہم، وزارت امور خارجہ نے اب واضح کیا ہے کہ پاسپورٹ ایسی کوئی دستاویز نہیں ہے جو شہریت قائم کرتا ہے۔ وزارت نے اپنے اس موقف کا اعلان 14ویں پاسپورٹ سیوا دیوس پر کیا ہے۔ چہارشنبہ کو وزارت امور خارجہ نے کہا کہ پاسپورٹ بنیادی طور پر حکومت کی طرف سے بین الاقوامی سفر کی سہولت کیلئے جاری کردہ سفری دستاویزات میں سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاسپورٹ کا ہونا، بذات خود، شہریت کا ثبوت نہیں ہوتا ہے۔ درحقیقت پاسپورٹ حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ آپ کی ملکیت ہے۔ پاسپورٹ کے پچھلے حصہ پر ایک نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ یہ ’’حکومت ہند کی ملکیت‘‘ ہے اور اگر حکومت حکم دے تو اسے واپس حوالہ کر دیا جائے گا۔
اس سال کے شروع میں، ووٹر فہرستوں پر خصوصی نظرثانی(SIR) سے متعلق معاملہ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے تصدیق کی تھی کہ آدھار شہریت کا حتمی ثبوت نہیں ہے، بلکہ یہ صرف شناخت کی دستاویز ہے۔ ووٹر شناختی کارڈ کو بھی شہریت کا دستاویز نہیں سمجھا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر شناختی اور رہائشی دستاویز ہے اور کسی کو انتخابات کے دوران اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ شہریت کے قوانین کے تحت، اگر کوئی شخص 26 جنوری 1950 کو یا اس کے بعد، لیکن 1 جولائی 1987 سے پہلے ملک میں پیدا ہوا ہو تو وہ پیدائشی طور پر ہندوستانی ہے۔ اب، اگر کوئی شخص جولائی 1987 کے بعد پیدا ہوا ہے، تو وہ شہریت کا دعویٰ کر سکتا ہے بہ شرط یہ کہ والدین میں سے کوئی بھی شہری ہو۔ 3 دسمبر 2004 کو یا اس کے بعد پیدا ہونے والے، پیدائشی طور پر شہریت کا دعویٰ صرف اس صورت میں کر سکتے ہیں جب والدین دونوں ہندوستانی ہوں، یا اگر والدین میں سے ایک شہری ہو اور دوسرا پیدائش کے وقت غیر قانونی تارکین وطن میں سے نہ ہو۔







