ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسد خاکی اس مقام پر لے جایا گیا ہے، جہاں ان کی ہلاکت ہوئی تھی۔ اس کی اطلاع ایران کے سرکاری میڈیا نے دی ہے۔ اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ (آئی آر آئی بی) نے بتایا کہ ’’اس پروگرام کا پہلے سے کوئی شیڈول طے نہیں تھا۔ شہید رہنما آیت اللہ خامنہ ای کے جسد خاکی والے تابوت کو ان کی شہادت والی جگہ لایا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی عوامی الوداعی تقریب 4 اور 5 جولائی کو منعقد ہوگی۔ ’اسلامی انقلابی گارڈ کور‘ (آئی آر جی سی) کے مطابق اس عوامی الوداعی تقریب میں ریکارڈ توڑ ہجوم شریک ہو سکتا ہے۔ توقع ہے کہ اس میں تقریباً 2 کروڑ افراد شرکت کریں گے۔ خامنہ ای کی الوداعی تقریب سے قبل ایران کی حکومت نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریس نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات کی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں حکومت نے کہا کہ ’’اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریس نے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں انہوں نے گرینڈ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔‘‘ اس سوشل میڈیا پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ’’ایران اس ہفتہ اپنے شہید امام کو سپرد خاک کر رہا ہے، لیکن ان کے الفاظ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے جمعرات کو اعلان کیا کہ بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطاء حسنین اور وزیر مملکت برائے امور خارجہ پوترا مارگریٹا 3 جولائی (جمعہ) کو ایران کا دورہ کریں گے۔ وہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔ دراصل ایران کی جانب سے حکومت ہند کو آخری رسومات میں شرکت کی باضابطہ دعوت ملی تھی۔ ایران نے کئی ممالک کے سربراہان کو دعوت نامہ بھیجا ہے اور بیشتر ممالک کے نمائندے 4 جولائی کو ایران پہنچ جائیں گے۔
