بھیلواڑہ کا سب سے بڑا مہاتما گاندھی چکتسالیہ (اسپتال) سنگین جانچ پڑتال کے دائرے میں ہے۔ گزشتہ چھہ دنوں میں مسلسل پانچ حاملہ خواتین کی موت ہوئی ہے۔ ان اموات میں سب سے چونکا دینے والا انکشاف یہ ہے کہ اسپتال کے آپریشن تھیٹر (او ٹی) کے نمونے لینے کی رپورٹ میں خطرناک بیکٹیریا کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ اس انکشاف سے محکمہ صحت اور اسپتال انتظامیہ میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
آپریشن تھیٹر میں خطرناک بیکٹیریا کی دریافت نے اسپتال انتظامیہ کے انفیکشن کنٹرول اور صفائی ستھرائی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا محکمہ صحت کی نس بندی اور جراثیم کشی میں لاپرواہی ان حاملہ خواتین کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی؟ تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس بات کی مکمل تحقیقات جاری ہیں کہ آیا حاملہ خواتین کی اموات اور او ٹی میں پائے جانے والے بیکٹیریا کے درمیان براہ راست تعلق ہے یا نہیں۔
نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ میں شائع خبر کے مطابق مہاتما گاندھی اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ارون گوڑ نے صورتحال کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن تھیٹر اور آئی سی یو میں نمونے لینا معمول کے طریقہ کار کا حصہ ہے۔ حال ہی میں حاملہ خواتین کی اموات کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں مائیکرو بایولوجی کے شعبہ کے ماہرین، شعبہ سرجری کے سربراہ، شعبہ امراض نسواں کے سربراہ، اور بے ہوشی کے شعبہ کے سربراہ شامل ہیں۔ یہ ٹیم اموات کی اصل وجہ کا تعین کرے گی۔
اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ارون گوڑ نے بتایا کہ انفیکشن کنٹرول کمیٹی کے رہنما خطوط کے تحت اسپتال میں باقاعدگی سے انفیکشن اور جراثیم کشی کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جس آپریشن تھیٹر کا نمونہ ٹیسٹ میں ناکام ہوا تھا اسے فوری طور پر استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے اور گزشتہ تین دنوں سے بند ہے۔ فی الحال، او ٹی کو جراثیم سے پاک کیا جا رہا ہے۔
