نئی دہلی: جماعتِ اسلامی ہند کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے نیٹ (NEET) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جنتر منتر پر جاری احتجاجی مظاہرے کا دورہ کیا اور احتجاج میں شریک طلبہ، طلبہ رہنماؤں اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کرکے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
وفد میں جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امراء پروفیسر سلیم انجینئر اور جناب امیر ملک معتصم خان، قومی سیکریٹری مولانا شفیع مدنی اور اسسٹنٹ سیکریٹری لئیق احمد خان شامل تھے۔ وفد نے اس موقع پر واضح کیا کہ جماعتِ اسلامی ہند ملک کے نظامِ تعلیم میں انصاف، شفافیت، جوابدہی اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہونے والی ہر پُرامن اور آئینی جدوجہد کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
دورے کے دوران وفد نے معروف ماہرِ ماحولیات اور تعلیمی اصلاحات کے حامی سونم وانگچک اور طلباء قائدین سے ملاقات کی جوطویل عرصے سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ وفد نے سونم وانگچک اور دیگر طلباء کی بگڑتی ہوئی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اس مسئلے کے منصفانہ اور فوری حل کی ضرورت پر زور دیا۔ وفد نے احتجاج میں شریک مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین (JNUSU) کے اراکین اور دیگر نمائندوں سے بھی تبادلۂ خیال کیا۔
اس موقع پر جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت طلبہ کے حقوق کے تحفظ، نظامِ تعلیم میں شفافیت، انصاف اور جوابدہی کو یقینی بنانے کی ہر مخلصانہ کوشش کی حمایت کرتی ہے۔ پرامن احتجاج اور جمہوری جدوجہد کسی بھی مضبوط جمہوری معاشرے کا بنیادی حق ہے۔ ایسے احتجاجی اور اصلاحی اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور حکومت کو ان کے ساتھ مثبت، تعمیری اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
جماعتِ اسلامی ہند نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ہمدردی، انسان دوستی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، خصوصاً ان افراد کی تشویشناک صحت کے پیشِ نظر جو طویل عرصے سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔جماعت نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر طلبہ کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ بامقصد مذاکرات کا آغاز کرے، ان کو سنجیدگی سے سنے اور ان کے جائز، منصفانہ اور آئینی مطالبات کو پورا کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
شفافیت، جوابدہی اور تعلیمی انصاف کے لیے جاری پُرامن جمہوری تحریکوں کا جواب طاقت یا بے اعتنائی سے نہیں بلکہ سنجیدہ مکالمے، باہمی اعتماد اور تعمیری اقدامات کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔ جماعت نے طلبہ کے حقوق، ان کے روشن مستقبل اور ملک کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے جاری تمام آئینی، قانونی اور پُرامن کوششوں کی اپنی مسلسل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔(پریس ریلیز)
