نئی دہلی: سپریم کورٹ نے نیٹ-یو جی کے 6 امیدواروں کی اس درخواست کو خارج کر دیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی او ایم آر شیٹ میں جوابات درج کیے تھے، وہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی او ایم آر شیٹ سے مطابقت نہیں رکھتے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کو اس معاملے میں دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔
جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے پر مشتمل بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ 6 امیدوار دوبارہ منعقد کئے گئے نیٹ-یو جی امتحان میں شریک ہوئے تھے اور ان کا معاملہ این ٹی اے سے متعلق دیگر زیر سماعت مقدمات سے مختلف نوعیت کا ہے۔
وکیل نے موقف اختیار کیا کہ امیدوار صرف اپنی اصل او ایم آر شیٹ کی نقول حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے حاصل کردہ نمبروں کی درستگی کی جانچ کر سکیں۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ چونکہ نیٹ کی کاؤنسلنگ کا عمل جاری ہے، اس لیے درخواست گزار صرف ایک محدود مسئلے کے حل کے لیے عدالت سے رجوع ہوئے ہیں۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ این ٹی اے اور نیٹ امتحان سے متعلق اسی نوعیت کی متعدد درخواستیں پہلے ہی عدالت کے سامنے زیر سماعت ہیں۔ عدالت اس وقت این ٹی اے کے ادارہ جاتی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت سے متعلق وسیع تر معاملات پر غور کر رہی ہے، اس لیے اس درخواست میں کوئی الگ سے ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے درخواست گزاروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی شکایت کے ازالے کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کریں اور اسی بنیاد پر درخواست خارج کر دی۔
