جے پور: راجستھان اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوسرے روز جمعہ کو زبردست ہنگامہ اور نعرے بازی کے درمیان یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل پیش کیا گیا۔ ریاستی حکومت کے وزیر جوگارام پٹیل نے شور شرابے کے دوران ایوان میں بل پیش کیا۔ بل پر بعد میں بحث ہوگی اور اس کے بعد ووٹنگ کے ذریعے اسے منظور کرنے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
اجلاس کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن کانگریس نے مختلف مسائل کو لے کر احتجاج شروع کر دیا۔ قائد حزب اختلاف ٹیکارام جولی نے الزام لگایا کہ کانگریس ارکان کو اسمبلی کے گیٹ پر روک دیا گیا۔ انہوں نے اسکولوں کا معائنہ کرنے گئے سی جے پی کارکنوں پر حملے کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھانے کی کوشش کی۔
اسپیکر نے وقفہ سوالات کے دوران ان معاملات کو اٹھانے کی اجازت نہیں دی، جس کے بعد کانگریس ارکان ایوان کے ویل میں پہنچ گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ کانگریس ارکان نے حکومت کو ’بھگوڑا‘ قرار دیتے ہوئے پوسٹر بھی دکھائے۔ اس کے جواب میں بی جے پی ارکان نے بھی کانگریس کے خلاف نعرے لگائے۔ ہنگامہ بڑھنے پر اسمبلی کی کارروائی پہلے دوپہر 12 بجے تک اور پھر ایک بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
دوپہر ایک بجے کارروائی دوبارہ شروع ہونے کے باوجود ایوان میں احتجاج اور نعرے بازی جاری رہی۔ اسی شور شرابے کے درمیان وزیر جوگارام پٹیل نے یو سی سی بل پیش کر دیا۔ بل پر آئندہ بحث ہوگی، جس کے بعد ووٹنگ کرائی جائے گی۔ کانگریس ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور دوپہر ایک بج کر 21 منٹ پر واک آؤٹ کر دیا۔
قائد حزب اختلاف ٹیکارام جولی نے کہا کہ اپوزیشن کو عوام سے جڑے اہم مسائل اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت عوام کی تشویش کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا قانون سازی کا کام مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسپیکر نے کانگریس ارکان سے کہا تھا کہ پہلے مالیاتی امور سے متعلق مطالبات زر منظور ہونے دیں۔
