نئی دہلی 23؍اگست ( ایجنسیز) دہلی کے دوارکا علاقے میں تین ماہ کی حاملہ 30 سالہ خاتون کی مبینہ خودکشی سے موت کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ متوفیہ وزارت دفاع میں اسسٹنٹ سیکشن آفیسر کے عہدے پر تعینات تھیں۔ خاتون کے اہل خانہ نے اس کے شوہر اور سسرال کے دیگر افراد پر مسلسل ذہنی اور جسمانی اذیت دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ خاتون فون کے ذریعے انہیں سسرال میں پیش آنے والی مبینہ زیادتیوں کے بارے میں مسلسل آگاہ کرتی تھی۔ خاندان نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ خاتون کو قتل کرکے واقعہ کو خودکشی کا رنگ دیا گیا ہو۔متوفیہ کی شناخت 30 سالہ نازیہ خانم کے طور پر ہوئی ہے۔نازیہ کی شادی 11 اپریل 2026 کو اعظم علی خان سے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد سے ہی نازیہ کو اس کے شوہر اعظم علی خان، ساس شمیم نشا، سسر بابر علی خان اور سسرال کے دیگر افراد کی جانب سے مبینہ طور پر مسلسل ہراساں کیا جا رہا تھا۔
اہل خانہ کے مطابق نازیہ کے ساتھ مبینہ طور پر گالی گلوچ اور مارپیٹ کی جاتی تھی اور اسے گھر سے نکالنے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں اور جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی گئی۔ پولیس کے مطابق ابتدائی پوچھ تاچھ میں نازیہ کے شوہر نے بتایا کہ دونوں کے درمیان کسی بات پر تنازعہ ہوا تھا، جس کے بعد اس کی بیوی نے خود کو ایک کمرے میں بند کرلیا۔ شوہر کے مطابق بعد میں اس نے نازیہ کو کھڑکی سے لٹکا ہوا پایا۔پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 85 اور 108 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہے۔
