جنوبی دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں 5 منزلہ پیئنگ گیسٹ (پی جی) عمارت منہدم ہونے کے واقعہ نے سبھی کو پریشان کر دیا ہے۔ اس حادثے میں 7 افراد کی موت ہوئی ہے، جس کے بعد راجدھانی میں غیر قانونی تعمیرات اور خستہ حال عمارتوں کا مسئلہ ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ حادثے کے بعد میونسپل کارپوریشن کی کارروائی اور مانسون سے قبل کی جانے والی کمزور عمارتوں کی جانچ پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ ایم سی ڈی کے مطابق اس سال کے آغاز میں کیے گئے سروے کے دوران 2784286 عمارتوں کی جانچ کی گئی تھی۔ ان میں سے صرف 19 عمارتیں خطرناک پائی گئی تھیں۔ افسران کے مطابق سروے میں عام طور پر عمارتوں کی بیرونی حالت دیکھی جاتی ہے۔ دراڑیں، جھکی ہوئی دیواریں اور خستہ حالی کی دیگر علامات کی بنیاد پر جائزہ لیا جاتا ہے۔ تفصیلی ساختی جانچ عام طور پر نہیں کی جاتی۔
افسران کے مطابق جون سے ستمبر کے درمیان ایم سی ڈی نے تقریباً 980 عمارتوں کے خلاف توڑ پھوڑ کی کارروائی کی تھی، 460 عمارتوں کو سیل بھی کیا تھا۔ اس دوران غیر قانونی تعمیرات کے لیے 1500 سے زیادہ شوکاز نوٹس جاری کیے، اور 708 عمارتوں کو سیل کیے جانے سے متعلق نوٹس بھی جاری کیے گئے۔ 720 سے زیادہ توڑ پھوڑ سے متعلق ہدایت بھی جاری کی گئی۔ ایم سی ڈی دستاویزات کے مطابق منہدم ہونے والی عمارت کے مالک نے گزشتہ برس پراپرٹی ٹیکس اور 2007 میں کنورژن چارجز ادا کیے تھے۔ حالانکہ یہ ادائیگیاں عمارت کی تعمیر کی قانونی حیثیت یا حفاظت کی تصدیق نہیں کرتی ہیں۔ ایم سی ڈی کے مطابق حادثے میں زمیں بوس ہونے والی عمارت 1990 کی دہائی میں بازآبادکاری کالونی میں تقریباً 55 مربع گز کے پلاٹ پر تعمیر کی گئی تھی۔ حالانکہ کچھ مقامی باشندوں کا دعویٰ ہے کہ یہ عمارت تقریباً 50 برس پرانی تھی اور 1970 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی۔
افسران نے بتایا کہ ان بازآبادکاری کالونیوں میں شروعات میں صرف گراؤنڈ فلور اور ایک منزل تعمیر کی اجازت تھی۔ اس کے باوجود کئی دہائیوں پرانی یہ 5 منزلہ عمارت لڑکوں کے پی جی کے طور پر استعمال کی جا رہی تھی۔ ایم سی ڈی کے مطابق عمارت کا کوئی منظور شدہ نقشہ نہیں تھا، اور اس کے خلاف کوئی شکایت بھی موصول نہیں ہوئی تھی۔ خبر رساں ایجنسی ’بھاشا‘ کی رپورٹ کے مطابق ستیہ نکیتن حادثے نے ایم سی ڈی کے ذریعہ ہر سال مانسون سے قبل کی جانے والی کمزور عمارتوں کی جانچ کی مؤثریت پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ افسران کے مطابق اس سال کے آغاز میں کیے گئے سروے کے دوران 2784286 عمارتوں کی جانچ کی گئی تھی، لیکن ان میں سے صرف 19 کو خطرناک قرار دیا گیا۔ ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا سروے کے دوران عمارتوں کی حقیقی حالت کا درست اندازہ لگایا جا پا رہا ہے؟







