ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعہ فلسطینی لیڈران کو پریشان کیے جانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ مسلسل دوسرے سال اقوام متحدہ میں عالمی لیڈران کے سالانہ اجلاس میں حصہ لینے کے لیے جا رہے اعلیٰ سطحی فلسطینی وفد کو ویزا دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے بدھ کے روز کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سمیت فلسطینی افسران اسرائیل کے ساتھ امن قائم کرنے کے سابقہ معاہدوں کے تحت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایک بیان میں محکمے نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے بین الاقوامی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھی ہے۔
اس کے ساتھ ہی اسرائیلیوں پر حملوں کے قصوروار قیدیوں کے اہل خانہ کو الاؤنسز دینا جاری رکھا ہے۔ اس میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) سے وابستہ اہلکاروں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ محکمے نے کہا کہ امریکہ کے ذریعہ کیے گئے وعدوں کے باوجود ان کی بہتری میں ناکامی اور ان کے اقدامات جو امن کے امکانات کو نقصان پہنچاتے ہیں، امریکہ پی ایل او اراکین اور پی اے افسران کو ویزا نہ دینے والی پابندیوں کو آگے بھی جاری رکھے گا، جو موجودہ امریکی قانون کے مطابق ہے۔ یہ قدم ٹرمپ انتظامیہ کی ویزا پابندی کی سمت میں اٹھایا گیا نیا فیصلہ ہے۔ یہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کے قریبی اتحاد کا ایک اور اشارہ ہے۔
7 اکتوبر 2023 میں حماس کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد غزہ میں جاری جنگ کو لے کر اسرائیل کو بین الاقوامی سطح پر علیحدگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اکتوبر میں امریکہ کی ثالثی سے ایک نازک جنگ بندی نافذ ہوئی تھی، لیکن اسرائیل نے فلسطینی علاقے میں حملے جاری رکھے ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے، جب ٹرمپ انتظامیہ نے آئی سی سی کو ختم کرنے کی مہم شروع کر دی ہے۔ اس نے آئی سی سی پر افغانستان، عراق اور غزہ میں مبینہ جرائم کے لیے امریکی اور اسرائیلی فوجیوں کے خلاف غیر منصفانہ طور پر مقدمہ چلانے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ اس عالمی عدالت کے رکن نہیں ہیں۔ ویزے کی منظوری نہ ملنے کے باوجود فلسطینیوں کی نمائندگی اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ان کے سفارت کار شرکت کریں گے، جو پہلے ہی اقوام متحدہ کے لیے تسلیم شدہ ہیں۔ گزشتہ سال محمود عباس ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ شریک ہوئے تھے۔







