کانگریس یکم نومبر 2026 کو رام لیلا میدان میں ریلی منعقد کرنے کا اعلان پہلے ہی کر چکی ہے، اور اب اس کے لیے راستہ ہموار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دہلی پولیس نے آج کانگریس کو اس ریلی کی باضابطہ اجازت دے دی۔ اس سلسلے میں حکام کی جانب سے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس بارے میں دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ کانگریس نے یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں ریلی منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کے لیے ضروری این او سی حاصل کرنے کی غرض سے دہلی پولیس سے رابطہ کیا تھا۔کانگریس یکم نومبر 2026 کو رام لیلا میدان میں ریلی منعقد کرنے کا اعلان پہلے ہی کر چکی ہے، اور اب اس کے لیے راستہ ہموار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دہلی پولیس نے آج کانگریس کو اس ریلی کی باضابطہ اجازت دے دی۔ اس سلسلے میں حکام کی جانب سے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس بارے میں دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ کانگریس نے یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں ریلی منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کے لیے ضروری این او سی حاصل کرنے کی غرض سے دہلی پولیس سے رابطہ کیا تھا۔
دراصل کانگریس پارٹی نے اس ریلی کے انعقاد کی اجازت ایسے وقت میں طلب کی ہے جب اپوزیشن پارٹیاں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ، ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور ووٹ چوری کے معاملے پر مسلسل احتجاج کر رہی ہیں۔ اس سے قبل کانگریس کی قیادت میں 12 اکتوبر کو بڑی تعداد میں اپوزیشن لیڈران و کارکنان نے سپریم کورٹ کی جانب مارچ کیا تھا۔ اس مارچ میں جین-زی طبقہ بھی بڑی تعداد میں شامل ہوا تھا۔
بہرحال، رام لیلا میدان میں کانگریس کی مجوزہ ریلی سے متعلق جانکاری دیتے ہوئے دہلی پولیس کے ڈی سی پی (سنٹرل) روہت راجبیر سنگھ نے کہا کہ ’’جیسا کہ سبھی جانتے ہیں، رام لیلا میدان، سی بی ڈی گراؤنڈ اور براڑی میدان کو اب دھرنا و احتجاجی مظاہرے کے لیے باضابطہ طور پر مقرر شدہ مقامات قرار دے دیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں کانگریس پارٹی نے میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) سے احتجاجی مقام کی دستیابی کے بارے میں معلومات طلب کی تھیں۔ ایم سی ڈی نے پارٹی کو بتایا کہ یہ جگہ 25 اکتوبر سے 3 نومبر تک دستیاب ہے۔ اس کے بعد پارٹی اس جگہ کی دستیابی کا سرٹیفکیٹ لے کر دہلی پولیس کے پاس پہنچی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم نے کانگریس پارٹی کے نمائندوں سے ریلی کے لیے ضروری حفاظتی انتظامات کے بارے میں بات چیت کی اور آج ہی انہیں عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کر دیا۔ وہ یہ سرٹیفکیٹ لے کر دوبارہ ایم سی ڈی کے پاس جائیں گے، جس کے پاس احتجاجی مقام کی ذمہ داری ہے، اور اپنی تیاریوں کو آگے بڑھائیں گے۔
