نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند نے مغربی بنگال کے شہر کولکاتا میں درگا پوجا پنڈال میں پیش آنے والے بھگدڑ کے المناک واقعے پراپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔اس حادثے میں کئی افراد کی جانیں چلی گئیں اورمتعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جماعت نے جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ۔
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے میڈیا کے لیے جاری اپنے ایک بیان میں کہا کولکاتا میں ہونے والی افسوس ناک بھگدڑ کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع سے ہمیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ ہماری دلی تعزیت سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہے اور ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔ کسی عوامی اجتماع میں بے گناہ افراد کی جانوں کا جانا انتہائی تشویش ناک ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس حادثے کی وجوہات کا سنجیدگی سے جائزہ لیے جانے کی ضرورت ہے ۔
حکام کی جواب دہی اورہجوم کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ حکام کو چاہیے کہ اس سانحے کے اسباب اور حالات کا پتہ لگانے کے لیے اعلیٰ سطحی اورشفاف تحقیقات کرائیں۔ تحقیقات کے نتائج محض سرکاری رپورٹوں تک محدود نہ رہیں، بلکہ ان کی بنیاد پرٹھوس حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ حکومت اور متعلقہ حکام کوعوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور ایسے واقعات کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کئے جانے چاہئے ۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ یہ بھگدڑ اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ عوامی اجتماعات کے لیے محفوظ منصوبہ بندی، بھیڑ کو قابو میں رکھنے کے مناسب انتظامات، ہنگامی حالات میں پولیس اورتقریب کے منتظمین کے درمیان مؤثر تال میل کا ہونا بہت ضروری ہے۔ گنجائش سے زیادہ بھیڑ، خراب موسم ، افرتفری اور ناقص سکیورٹی انتظامات کسی عوامی اجتماع کو ایک بڑے سانحے میں بدل سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگ جب بھی تہواروں، زیارتوں یا دیگر عوامی تقریبات کے لیے جمع ہوں، ان کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ منتظمین اور حکام کو ممکنہ خطرات کا پیشگی اندازہ ہونا چاہیے، لوگوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرنا چاہیے، آنے جانے کے راستوں کو محفوظ بنانا چاہئے، مناسب تعداد میں اہلکاروں کی تعیناتی کرنی چاہئےاور ہنگامی حالات کے لیے بروقت انتظامات کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی سلامتی پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حادثے سے متاثر ہونے والے خاندانوں کو مناسب طبی علاج فراہم کیا جائے۔حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ کو معاوضہ اور ہر ممکن مدد دی جائے۔ ایک قابل اعتماد تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں اور لاپروائی کے ذمہ دار اافراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند نے مغربی بنگال حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے، بھیڑ بھاڑ والے عوامی مقامات پرحفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط کیا جائے اور تہواروں کے موسم میں انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ اس طرح کے حادثات کی روک تھام کے لیے پیشگی منصوبہ بندی اور انسانی زندگی کے تحفظ کو ہر قیمت پر ترجیح دی جانی چاہئے ۔







