امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں کئی ہندوستانی نژاد امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ فلوریڈا سے ڈیموکریٹک امیدوار پیا ڈنڈیا نے کامیابی حاصل کر سبھی کو حیران بھی کر دیا ہے۔ ہندوستانی نژاد سہاس سبرامنیم بھی ایک بار پھر امریکی ایوان نمائندگان کے رکن منتخب ہو گئے ہیں۔ ان کے علاوہ اوہیو گورنر عہدے کے لیے انتخاب لڑ رہے وویک راماسوامی ابتدائی رجحانات میں پیچھے نظر آرہے ہیں۔ امیش شاہ، نتیارمن اور سریتا کوماریڈی کے انتخابی نتائج ابھی واضح نہیں ہیں۔ امریکہ میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ ان انتخابات میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اکثریت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ انتخابات کے جو ابتدائی نتائج اور اندازے سامنے آئے ہیں، اس کے بعد ہندوستانی نژاد امیدواروں کی کارکردگی پر سبھی کی نظریں ہیں۔ کئی امیدواروں کی نشستوں پر حتمی نتائج کا انتظار ہے۔
ہندوستانی نژاد ڈیموکریٹک امیدوار پیا ڈنڈیا نے فلوریڈا کے 22ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے جیت حاصل کی ہے۔ ڈسیزن ڈیسک ایچ کیو نے انہیں اس سیٹ پر کامیاب قرار دیا ہے۔ تقریباً 94 فیصد ووٹوں کی گنتی کے دوران پیا ڈنڈیا کو تقریباً 52.2 فیصد ووٹ ملے، جبکہ ان کے ریپبلکن حریف کیسی ایسکر کو تقریباً 47.8 فیصد ووٹ ملے۔ اس طریقے سے پیا ڈنڈیا نے اپنے حریف پر سبقت حاصل کرتے ہوئے جیت درج کی۔ یہ سیٹ ری ڈسٹرکٹنگ کے بعد اوپن سیٹ تھی، یعنی اس انتخاب میں کوئی موجودہ رکن پارلیمنٹ اپنی سیٹ محفوظ کرنے کے لیے میدان میں نہیں تھا۔ پیا ڈنڈیا ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیں اور پیشے کے اعتبار سے اسکول کی سابق پرنسپل رہ چکی ہیں۔ ان کی جیت کو ہندوستانی نژاد امیدواروں کے لیے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اطلاع کے مطابق انتخابی اعداد و شمار کی بنیاد پر ان کی جیت پروجیکٹ کی گئی ہے۔







