کولکاتا: خلیج بنگال میں بننے والا گردابی طوفان ’ارنب‘ بدھ کی دوپہر آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرا سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ طوفان کی رفتار 125 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ بعض اوقات یہ 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی چل سکتا ہے۔ دوسری جانب، مغربی بنگال پر طوفان کا براہِ راست اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے، تاہم اس کے اثرات کے سبب ریاست میں 27 سے 30 اکتوبر کے درمیان مختلف مقامات پر بارش اور گرج چمک کے ساتھ بوچھاریں پڑ سکتی ہیں۔
کولکاتا کے علاقائی موسمیاتی مرکز کے مطابق، خلیج بنگال کے مشرقی وسطی حصے اور اس سے متصل جنوب مشرقی حصے میں ہوا کے کم دباؤ کا نظام موجود ہے، جو تقریباً 8 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جنوب مشرق کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اتوار کو یہ نظام آہستہ آہستہ جنوب کی طرف بڑھے گا اور بعد میں خلیج بنگال کے مشرقی وسطی حصے میں مغرب-شمال مغرب کی جانب مڑ جائے گا۔
محکمہ موسمیات کے اندازے کے مطابق، پیر کی صبح تک یہ نظام گردابی طوفان کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اسے ’ارنب‘ نام دیا جائے گا۔ اس کے بعد طوفان کی شدت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے اور منگل کی صبح تک یہ شدید گردابی طوفان میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس کے مزید شدت اختیار کرنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
موسمیاتی مرکز کے مطابق، طوفان بدھ کی دوپہر تک آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرا سکتا ہے۔ باپٹلا اور وشاکھاپٹنم کے درمیان ساحلی علاقے اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس دوران ہواؤں کی رفتار 115 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے اور بعض اوقات 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ طوفان کے اثر سے خلیج بنگال کے مشرقی وسطی اور جنوب مشرقی حصوں میں تیز ہوائیں چلنے اور سمندر میں اونچی لہریں اٹھنے کا امکان ہے۔
