افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی جمعرات سے ہندوستان کے دورے پر ہیں۔ وہ سات روزہ دورے پر ہیں۔ انہوں نے جمعہ کو وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے بھی ملاقات کی، اس کے بعد پریس کانفرنس کی۔ تاہم خواتین صحافیوں کو کانفرنس میں شرکت سے روک دیا گیا۔
جے شنکر کے ساتھ ملاقات میں متقی نے دو طرفہ تجارت، انسانی امداد اور سیکورٹی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم سب سے زیادہ زیر بحث مسئلہ پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کی غیر حاضری کا تھا۔
طالبان کے وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں پر پابندی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے غم و غصے کو جنم دیا۔ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ کسی خاتون صحافی کو پریس کانفرنس میں مدعو نہ کرنا ناقابل قبول اقدام ہے۔ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں مرد صحافیوں کو احتجاجاً پریس کانفرنس سے واک آؤٹ کرنا چاہیے تھا‘۔
اس پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کی عدم موجودگی افغانستان میں خواتین کی حالت زار کی عکاسی کرتی ہے۔ افغانستان میں خواتین کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے، خاص طور پر اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد۔ طالبان نے خواتین کے حقوق پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جنہیں بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے صنفی امتیاز سے تعبیر کیا ہے۔







