لوک سبھا میں آج ’وندے ماترم‘ پر بحث کے دوران کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے برسراقتدار طبقہ کو زبردست انداز میں نشانے پر لیا۔ انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کا نام تو نہیں لیا، لیکن کئی مواقع پر آج ایوان میں وزیر اعظم کے ذریعہ دیے گئے بیان کی طرف اشارہ کر جوابی حملہ کیا۔ خاص طور سے ’وندے ماترم‘ کے حذف کردہ الفاظ سے متعلق وزیر اعظم مودی نے جو بیان آج دیا، اس پر کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’’ہمارے قومی گیت اور قومی ترانہ دونوں کا انتخاب اور تقرری میں سب سے بڑا کردار گرو دیو رویندرناتھ ٹیگور کا تھا۔ اسے آئین ساز اسمبلی نے بھی منظوری دی۔ اس پر سوال اٹھانا نہ صرف ہماری تحریک آزادی کے پروانوں اور عظیم ہستیوں کی بے عزتی ہے، بلکہ پوری آئین ساز اسمبلی کی بھی بے عزتی ہے۔
پرینکا گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران برسراقتدار طبقہ کے سامنے ایک انتہائی تلخ سوال بھی رکھا، جسے بعد میں انھوں نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر بھی شیئر کیا ہے۔ انھوں ایوان زیریں میں موجود برسراقتدار طبقہ کے لیڈران سے پوچھا کہ ’’کیا آج حکومت میں بیٹھے لوگ اتنے متکبر ہو گئے ہیں کہ وہ خود کو مہاتما گاندھی، نیتاجی سبھاش چندر بوس، ڈاکٹر امبیڈکر، ڈاکٹر راجندر پرساد جیسی عظیم ہستیوں سے بھی بڑا سمجھنے لگے ہیں؟
پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’مودی جی نے ایوان میں ایک خط کا ذکر کیا، جس میں انھوں نے بتایا کہ 20 اکتوبر کو نہرو جی نے نیتا جی کو ایک خط لکھا تھا۔ لیکن 17 اکتوبر کو لکھے گئے خط کا ذکر وزیر اعظم نے نہیں کیا، جو نیتاجی سبھاش چندر بوس نے پنڈت جواہر لال نہرو جی کو لکھا تھا۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں کہ ’’نیتا جی نے خط میں لکھا تھا– میرے عزیز جواہر، ’وندے ماترم‘ کے حوالے سے کہنا چاہوں گا کہ ہم اس پر کلکتہ (اب کولکاتا) میں بات کریں گے، اور اگر تم اسے ورکنگ کمیٹی میں پیش کرو، تو وہاں بھی اس مسئلہ پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ میں نے ڈاکٹر ٹیگور کو لکھا ہے کہ وہ اس معاملے پر تم سے گفتگو کریں، جب تم شانتی نکیتن جاؤ۔ براہِ کرم جب تم شانتی نکیتن جاؤ تو ان سے بات کرنا مت بھولنا۔‘‘ پرینکا بتاتی ہیں کہ یہ خط 17 اکتوبر کو لکھا گیا تھا، اور پھر 20 اکتوبر کو نہرو جی نے اس کا جواب لکھا تھا۔ پی ایم مودی نے اس جواب کی ایک سطر یہاں سنائی، لیکن باقی باتیں جو نہرو جی نے لکھی تھیں، وہ اس طرح ہیں ’’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وندے ماترم کے خلاف موجودہ شور اور ہنگامہ بڑی حد تک فرقہ پرستوں کی تیار کردہ ہے۔ ہم خواہ کچھ بھی کریں، فرقہ پرست جذبات کو خوش کرنے کے لیے ہم خود کو نہیں جھکا سکتے۔ لیکن جہاں حقیقی شکایات موجود ہوں، انہیں دور کرنے کے لیے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب میں 25 تاریخ کی صبح کولکاتا پہنچوں گا۔ اس سے مجھے ڈاکٹر ٹیگور کے ساتھ ساتھ دوسرے دوستوں سے ملنے کا بھی وقت مل جائے گا۔‘‘
پرینکا گاندھی بتاتی ہیں کہ بعد میں نہرو جی کولکاتا جاتے ہیں اور گرودیو رویندرناتھ ٹیگو سے ملاقات کرتے ہیں۔ اس کے اگلے ہی دن گرودیو جی ایک خط لکھتے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’’جو 2 مصرعے ہمیشہ گائے جاتے تھے، ان کی اہمیت اتنی گہری تھی کہ اس حصے کو نظم کے بقیہ حصے اور کتاب کے ان حصوں سے الگ کرنے میں انھیں کوئی مشکل نہیں تھی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’تحریک آزادی میں ہمیشہ سے وہی 2 مصرعے ہی گائے جاتے تھے اور ان کو گاتے ہوئے قربانی دینے والے سینکڑوں شہیدوں کے احترام کے لیے انھیں ایسے ہی گانا مناسب رہے گا۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’بعد میں جوڑے گئے مصرعے کا فرقہ وارانہ معنی نکالا جا سکتا ہے، اور اس وقت کے ماحول میں ان کا استعمال نامناسب ہوگا۔






