نئی دہلی : ایران میں اس وقت تقریباً 10 ہزار ہندوستانی پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد ہندوستانی طلبا کی ہے جو میڈیکل اور مذہبی تعلیم کے لیے مختلف ایرانی اداروں میں مطالعہ کر رہے ہیں۔ اسرائیل-ایران لڑائی کے درمیان اب حکومت ہند ان لوگوں کو بحفاظت باہر نکالنے کے لیے خصوصی ریسکیو آپریشن کرنے والی ہے۔حکومت ہند کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ایران حکومت نے بھی غیر ملکی شہریوں کو بحفاظت ان کے ملک بھیجنے پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔ اسی کے تحت ہندوستانیوں کو آذربائیجان، ترکمنستان اور افغانستان کے راستے محفوظ نکالا جائے گا۔ اس کے لیے سرحدی علاقوں میں ہندوستانی سفارت خانہ اور دیگر ایجنسیوں کو فعال کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل ہندوستانی سفارت خانہ نے ہندوستانی شہریوں کے لیے اتوار کو ایک ایڈوائزری جاری کی تھی۔ جس میں ہندوستانی سفارت خانہ نے ہندوستانی شہریوں سے کہا کہ گھبرائیں نہیں، محتاط رہیں اور ایران کی راجدھانی تہران میں واقع ہندوستانی سفارت خانہ کے رابطہ میں رہیں۔
ہندوستانی سفارت خانہ نے ایڈوائزری میں یہ بھی کہا کہ محتاط رہنے کے ساتھ ساتھ تمام غیر ضروری سرگرمیوں سے گریز کریں، سفارت خانہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر نظر رکھیں اور مقامی افسران کی جانب سے دی گئی صلاح کے مطابق حفاظتی پروٹوکول پر عمل کریں۔ ساتھ ہی ہندوستانی سفارت خانہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے آفیشیل اکاؤنٹ پر ایک گوگل فارم شیئر کیا اور تمام ہندوستانی شہریوں سے فارم پُر کر کے اپنی تفصیلی معلومات فراہم کرنے کے لیے کہا ہے۔ ساتھ ہی ہندوستانی مشن نے ایمرجنسی صورتحال کے پیش نظر کچھ فون نمبر بھی جاری کیے ہیں۔
واضح ہو کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان مسلسل چار دنوں سے جنگ جاری ہے۔ فی الحال یہ ٹکراؤ ختم ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ اس لڑائی میں اب تک ایران کے 224 اور اسرائیل کے 15 لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ دن بہ دن جنگ میں ہو رہی شدت سے عالمی پیمانے پر تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی ایران میں موجود ہندوستانیوں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔






