Akhbarurdu Logo
  • Home
  • اردو خبریں
    • قومی خبریں
    • عالمی خبریں
    • عرب ممالک
    • پریس ریلیز
  • Newspapers
X
  • Home
  • اردو خبریں
    • عالمی خبریں
    • عرب ممالک
    • قومی خبریں
    • پریس ریلیز
  • Newspapers
Akhbarurdu Logo
  • Urdu Dictionary
  • Naat Online
  • Hajj 2025
  • Regional Newspapers
Home اردو قومی خبریں

ٹیرف کا تنازع باہمی مذاکرات سے حل کیا جائے: امیر جماعت اسلامی ہند

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سید سعادت اللہ حسینی نےکہا کہ اقتصادی حربوں کے ذریعے کسی کو مجبور کرنا خطرناک اور عالمی تعاون کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتا ہے

Akhbar Urdu by Akhbar Urdu
6 months ago
ٹیرف کا تنازع باہمی مذاکرات سے حل کیا جائے: امیر جماعت اسلامی ہند

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے امیر، سید سعادت اللہ حسینی نے بھارت کی درآمدات پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کل ٹیرف کی شرح 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ فیصلہ غیر ضروری اور جانبدارانہ ہے ، اس سے نہ صرف بھارتی معیشت بلکہ امریکی معیشت اور عالمی تجارت کے استحکام کو بھی نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ بھارت کو روس سے خریداری پر سزا کے طور پر نشانہ بنایا جائے جبکہ دیگر متعدد ممالک بشمول یورپی یونین، روس سے خریداری کرتے رہتے ہیں لیکن ان کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کیا جاتا۔ دنیا میں کسی بھی ملک کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی خارجہ، تجارتی اور اقتصادی پالیسیاں خود وضع کرے، اقتصادی حربوں کے ذریعے کسی کو مجبور کرنا خطرناک اور عالمی تعاون کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

محترم امیر جماعت نے کہا کہ ’’ مجوزہ 50 فیصد ٹیرف تجارت میں ، بالخصوص محنت طلب شعبوں جیسے ٹیکسٹائل، قالین اور خوراک کی برآمدات سے وابستہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبارکے لیے مشکلیں کھڑی کرے گا۔ اتنا زیادہ ٹیرف نہ صرف برآمد کنندگان کو نقصان پہنچائے گا بلکہ ہزاروں مزدوروں کے روزگار کے خاتمے کا سبب بھی بنے گا جس کا منفی اثر امریکی صارفین پر بھی پڑے گا، انہیں مہنگی اشیاء اور محدود مصنوعات کے انتخاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امیر جماعت نے حکومت ہند سے کہا کہ وہ اس حالیہ بحران سے سبق حاصل کرے اور اپنی سفارتی حکمت عملی پر نظر ثانی کرے۔ اب وقت آچکا ہے کہ بھارت اپنی خارجہ پالیسی کا ازسر نو جائزہ لے۔ یہ سامراجی طاقتیں نہ کبھی کسی خود مختار اور باوقار قوم کی وفادار دوست رہی ہیں اور نہ ہی رہ سکتی ہیں۔ ہمیں ان سے دوستی کے لیے اپنے اصولی موقف پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے ۔ بھارت کو چاہئے کہ وہ ایک متوازن اور غیر جانبدارانہ موقف اختیار کرے، نہ کہ امریکہ یا دیگر سامراجی قوتوں کے ساتھ ضرورت سے زیادہ قربت اختیار کرے۔ ہمارا موجودہ یکطرفہ جھکاؤ نہ تو ہمارے قومی مفاد میں ہے اور نہ ہی یہ معاشی یا سفارتی طور پر ہمارے لیے فائدہ مند ہے۔انہوں نے بھارت کی جانب سے فوری رد عمل کے حوالے سے درج ذیل نکات کی نشاندہی کی:

1: تجارتی تنوع:
“ہمیں جاپان، جنوبی کوریا، یورپی یونین اور آسٹریلیا جیسے شراکت داروں کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو مزید گہرا کرنا چاہیے۔ آسیان، برکس، اور دیگر علاقائی بلاکس کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا، ایسے بیرونی دباؤ کے خلاف ایک حفاظتی دیوار کا کام کرے گا”

2: متبادل معاشی قوتوں کو مضبوط بنانا:
بھارت کو چاہیے کہ وہ برکس جیسے متبادل معاشی اتحادوں کو مضبوط بنانے میں فعال قیادت کا کردار ادا کرے، تاکہ عالمی معاشی میدان میں طاقت کی متوازن تقسیم ممکن ہو سکے۔ یہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی ملک غیر ضروری اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے خودمختار ممالک پر دباؤ نہ ڈالے یا ان کے خودمختار حقوق میں مداخلت نہ کرے۔

3: داخلی معاشی استحکام :
“بھارت کو گھریلو کاروباری سرگرمیوں کی حمایت کے لیے مخصوص معاشی اور مالیاتی اقدامات اپنانے کی ضرورت ہے۔ ملکی معیشت ، خاص طور پر محنت طلب پیداواری اور زرعی شعبے کو اس انداز میں مضبوط بنایا جانا چاہیے کہ بڑی معاشی طاقتوں پر انحصار کم ہو۔ مالیاتی نظم و ضبط کو اس طرح متوازن کیا جائے کہ بنیادی ڈھانچے، پیداواری صلاحیتوں اور انسانی وسائل کی بہتری کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات میں اضافہ ممکن ہو۔”

آخر میں محترم امیر جماعت نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ اس چیلنج کو داخلی اصلاحات کے لیے ایک انتباہ کے طور پر استعمال کریں اور کہا کہ ’’ بھارت کو اپنی صنعتی کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا، کاروبار کے لیے آسانیاں بڑھانی ہوں گی، ہنر مندی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی اور لاجسٹک اخراجات کو کم کرنا ہوگا۔ ایک مضبوط معیشت بیرونی اقتصادی دباؤ کے خلاف بہترین حفاظتی آلہ ہے۔ حکومت کو ایک اصولی، خودمختار اور متوازن خارجہ پالیسی اپنانی چاہیے جو ہماری معاشی خودمختاری کا تحفظ کرے اور ایک منصفانہ عالمی تجارتی نظام کی تشکیل میں بھی مؤثر کردار ادا کرے۔

Recent News

’امرت ادیان‘3فروری سے عام لوگوں کے لیے کھل جائے گا

’امرت ادیان‘3فروری سے عام لوگوں کے لیے کھل جائے گا

February 1, 2026
2026-27کے بجٹ میں ’ ترقی یافتہ ہندوستان ‘ کا ہدف

2026-27کے بجٹ میں ’ ترقی یافتہ ہندوستان ‘ کا ہدف

February 1, 2026
دہلی-این سی آر میں پھر موسم نے   لی کروٹ

دہلی-این سی آر میں پھر موسم نے لی کروٹ

February 1, 2026
عدالتوں میں الزامات طے کرنے میں تاخیر پر سپریم کورٹ برہم

ماہواری سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

January 31, 2026
ہماچل پردیش میں شدید برفباری

ہماچل پردیش میں شدید برفباری

January 30, 2026
آئی پی یونیورسٹی میں تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے داخلہ عمل شروع

آئی پی یونیورسٹی میں تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے داخلہ عمل شروع

January 29, 2026
Urdu News:
National قومی خبریں Arab عرب ممالک World عالمی خبریں Education تعلیم Jobs روزگار
Indian Newspapers:
اردو বাংলা অসমীয়া
Arab Media:
Algeria الجزائر Bahrain البحرين Comoros جزر القمر Djibouti جيبوتي Egypt مصر Iraq العراق Jordan الأردن Kuwait الكويت Lebanon لبنان Libya ليبيا Mauritania موريتانيا Morocco المغرب Oman عمان Palestine فلسطين Qatar قطر Saudi Arabia السعودية Somalia الصومال Sudan السودان Syria سوريا Tunisia تونس U.A.E الإمارات العربيّة المتّحدة Yemen اليمن
Shop
Naat Online
Dictionary
Urdu News
Hindi News
English News
Urdu Unicode Converter
Krutidev Converter
Hosting
Indian Newspapers
Arab Media
Shop
Naat Online
Dictionary
Urdu News
Hindi News
English News
Urdu Unicode Converter
Krutidev Converter
Hosting
Akhbar Urdu Logo
  • About Us
  • Advertising
  • Contact Us
  • Sitemap
  • Disclaimer
  • Privacy Policy

All trademarks, trade names, service marks, copyrighted work, logos referenced herein belong to their respective owners/companies. Any Query Please write us

©akhbarurdu.com, Indian Urdu Media Info website.

  • Home Icon Home
  • News Icon News
  • Newspapers Icon Newspapers
  • Naat Icon Naat
  • Dictionary Icon Dictionary
No Result
View All Result

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.