**وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا پر حملہ، سیاست میں ہنگامہ، عینی شاہدین اور اپوزیشن کی شدید مذمت**
نئی دہلی: آج صبح دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا پر ’جن سنوائی‘ کے دوران حملہ کا واقعہ سامنے آیا جس نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ وزیر اعلیٰ جب عوامی شکایات سن رہی تھیں، تبھی ایک شخص اسٹیج کے قریب پہنچا اور اچانک انہیں تھپڑ مار دیا۔ موقع پر موجود سیکورٹی اہلکاروں نے فوراً ملزم کو قابو میں کر کے پولیس کے حوالے کر دیا۔
عینی شاہدین نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے اسے چونکا دینے والا قرار دیا۔ سریش کھنڈیلوال، جو موقع پر موجود تھے، نے کہا کہ حملہ آور موقع کا انتظار کر رہا تھا اور جیسے ہی موقع ملا، وزیر اعلیٰ پر حملہ کر دیا۔ انجلی، ایک دیگر عینی شاہد، نے کہا کہ حملہ آور بات کر رہا تھا اور پھر اچانک تھپڑ مار دیا۔ وہ شخص اپنا بھیس بدل کر آیا تھا۔ شیلیش کمار نے کہا کہ وہ سیور کی شکایت لے کر آئے تھے لیکن گیٹ پر ہی ہنگامہ ہو گیا کیونکہ وزیر اعلیٰ پر حملہ ہو چکا تھا۔
واقعے کے بعد سیاسی ردعمل بھی تیزی سے سامنے آئے۔ دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ آتشی نے حملے کو جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختلاف کی گنجائش ہے، لیکن تشدد کی نہیں۔ دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ ہی محفوظ نہیں تو عام خواتین کی حفاظت کیسے ممکن ہے؟ پرمود تیواری اور پی سندوش کمار جیسے دیگر رہنماؤں نے بھی واقعے کی شدید مذمت کی اور اس کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
پولیس نے معاملہ درج کر لیا ہے اور ملزم سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ واقعہ نے ایک بار پھر عوامی نمائندوں کی سکیورٹی پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
see more….qaumiawaz.com






