امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ میں قید یرغمالیوں کی رہائی کے معاملے پر حماس کو سخت اور آخری وارننگ جاری کی ہے۔ اتوار کے روز ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے واضح کیا کہ حماس کو فوری طور پر ان کی پیش کردہ جنگ بندی تجویز کو قبول کرنا ہوگا، ورنہ اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل پہلے ہی اس تجویز کو تسلیم کر چکا ہے اور اب وقت ہے کہ حماس بھی اس پر عمل کرے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پوری دنیا چاہتی ہے کہ یرغمالی محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو لوٹیں اور یہ جنگ ختم ہو۔ ٹرمپ کے مطابق اسرائیلی حکومت ان کی شرائط مان چکی ہے، لیکن اگر حماس نے بھی ایسا نہ کیا تو انہیں انجام کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ ٹرمپ نے اسے اپنی “آخری وارننگ” قرار دیا۔
ان کی پیش کردہ تجویز کے مطابق جنگ بندی کے پہلے دن ہی حماس کو غزہ میں موجود باقی 48 یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا، اس کے بدلے میں اسرائیل ہزاروں فلسطینی قیدیوں کو جیلوں سے رہا کرے گا۔ یہ تجویز ٹرمپ نے ہفتہ کو پیش کی تھی جسے اسرائیلی حکام نے مثبت انداز میں لیا ہے، تاہم حماس نے اس پر مکمل رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حماس کو معاہدے کے تحت تین یرغمالیوں کو طے وقت پر رہا کرنا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ حماس کا الزام ہے کہ اسرائیل نے خود جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، لہٰذا جب تک اسرائیل اپنے وعدے پورے نہیں کرتا، وہ بھی یرغمالیوں کو رہا نہیں کرے گا۔
اس تنازعے میں ٹرمپ نے خود کو ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام فریق امن اور انسانیت کو ترجیح دیں۔ تاہم اس دوران اسرائیلی افواج کی غزہ پر کارروائیاں جاری ہیں، جن میں ہزاروں فلسطینی شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
read more….qaumiawaz.com






