نیویارک: امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں ہندوستانی نژاد رہنما ظہران ممدانی نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے میئر کا انتخاب جیت لیا ہے۔ ٹرمپ کی دھمکیوں اور مسلسل تنقید کے باوجود ڈیموکریٹک سوشلسٹ پارٹی کے اس امیدوار نے سخت مقابلے میں مخالفین کو پچھاڑ دیا۔
انتخابات میں ممدانی کا مقابلہ آزاد امیدوار اور سابق گورنر اینڈریو کومو کے علاوہ ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا سے تھا۔ نیویارک الیکشن بورڈ کے مطابق، تقریباً 20 لاکھ سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے جو 1969 کے بعد کسی بھی میئر الیکشن میں سب سے زیادہ ہیں۔ شہر کی آبادی تقریباً 85 لاکھ ہے۔
34 سالہ ممدانی نے اپنی مہم میں اقتصادی عدم مساوات کے خاتمے اور سماجی انصاف پر زور دیا۔ ان کے انقلابی نظریے اور صاف گوئی نے نوجوانوں اور متوسط طبقے کے ووٹروں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ ان کی انتخابی مہم کو ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز اور نیویارک کی نمائندہ الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز جیسے معروف سیاست دانوں نے بھی حمایت دی۔ممدانی کی اہلیہ راما دوجی نے نیویارک کے ایسٹوریا، کوئینز کے ایک مرکز پر ووٹ ڈالا۔ انہوں نے انسٹاگرام پر اسٹوری شیئر کرتے ہوئے شہریوں سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی اور لکھا، ’لیٹس گو این وائی سی۔‘
نیویارک کے برک لین پیرا ماؤنٹ تھیٹر کے باہر ممدانی کی جیت کا جشن منانے کے لیے سینکڑوں حامی جمع ہوئے۔ ان کی ’واچ پارٹی‘ کے دوران موسیقی اور دیگر تقریبات کا بھی اہتمام کیا گیا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، طویل قطاریں دیکھنے کو ملیں جبکہ میڈیا کے نمائندے پہلے سے موجود تھے۔
سی این این کے مطابق، ریکارڈ ووٹنگ سے اینڈریو کومو کے خیمے میں پریشانی دیکھنے کو ملی، کیونکہ زیادہ ووٹنگ کا فائدہ ممدانی کے نوجوان حامیوں کو پہنچا۔ انتخابی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جیت صرف نیویارک نہیں بلکہ امریکی سیاست میں اقلیتوں کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کی ایک نئی علامت ہے۔






