مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی درستگی کے لیے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے 4 نومبر سے جاری خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ریاست میں غیر مستعمل یا غلط اندراجات کی بڑی تعداد سامنے آئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ووٹر لسٹ سے 46 لاکھ سے زیادہ نام حذف کرنے کے لیے نشان زد کیے گئے ہیں۔ آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق، یہ تمام نام ووٹر لسٹ کے ان گنتی فارموں کی ڈیجیٹل جانچ کے بعد شناخت کیے گئے ہیں، جن میں ہر ووٹر کی تفصیل درج کی جاتی ہے۔
منگل کی شام تک پوری ہونے والی ڈیجیٹلائزیشن کے ٹرینڈ سے معلوم ہوا کہ ہٹائے جانے کے قابل ناموں کی تعداد 46.30 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جب کہ پیر کی شام یہی تعداد 43.50 لاکھ تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف 24 گھنٹوں میں مزید 2.70 لاکھ نام فہرست میں شامل ہوئے ہیں جنہیں نکالا جا سکتا ہے۔الیکشن کمیشن کے اندرونی ذرائع کے مطابق ان 46.20 لاکھ ناموں میں سب سے بڑی تعداد مردہ ووٹرز کی ہے، جو تقریباً 22.28 لاکھ بنتی ہے۔
دوسری بڑی کیٹیگری غائب ووٹرز کی ہے، جن کی تعداد 6.40 لاکھ بتائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ 16.22 لاکھ ایسے ووٹرز نشان زد ہوئے ہیں جو شادی، ملازمت یا مستقل منتقلی کے سبب ریاست یا اپنے حلقے سے ہمیشہ کے لیے کہیں اور شفٹ ہو گئے ہیں اور اس لیے ان کا نام موجودہ لسٹ میں برقرار نہیں رہ سکتا۔ تقریباً 1.05 لاکھ ڈپلیکیٹ ووٹرز کی بھی شناخت کی گئی ہے، جن کے نام دو مختلف جگہوں پر موجود ہیں۔






