امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران ایک بڑے امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ اس بات چیت میں مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے کئی رہنماؤں کے ساتھ ہوئی ٹیلیفونک گفتگو کے بعد اہم پیشرفت ہوئی۔ ہفتہ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ، ایران اور خطے کے کئی ممالک کے درمیان معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے اوراب صرف کچھ آخری باتیں باقی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’’میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ہوں، جہاں ابھی ہماری سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود، متحدہ عرب امارات کے محمد بن زاید النہیان، قطر کے امیر تمیم بن حمد بن خلیفہ الثانی، وزیر اعظم محمد بن عبد الرحمن بن جاسم بن جابر الثانی، قطر کے وزیر علی بن احمد الثانی، پاکستان کے عاصم منیر احمد شاہ، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان، مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبد اللہ دوئم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ کے ساتھ بہت اچھی بات چیت ہوئی۔ یہ بات چیت ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان امن کے حوالے سے مفاہمت کی یاد داشت (ایم او یو) پر مرکوز تھی۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ حالیہ مہینوں میں ایران اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے ان کی سب سے بڑی سفارتی پہل ہے۔ انہوں نے مزيد كہا كہ امريكہ، ايران اور مذكورہ دوسرے ممالك كے درميان ہونے والا معاہدہ تقريباً طے ہوچکا ہے، صرف حتمی منظوری باقی ہے. ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بھی الگ سے بات کی اور وہ بھی بہت اچھی رہی۔
ٹرمپ کے مطابق اب بات چیت معاہدے کی شرائط اور تفصیلات پر چل رہی ہے۔ معاہدے کی حتمی تفصیلات اور باریکیوں پر تبادلہ خیال جاری ہے اور جلد ہی اس کا اعلان کیا جائے گا۔ ٹرمپ کے بیان کا سب سے اہم حصہ آبنائے ہرمز سے متعلق تھا۔ یہ ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کا تیل گزرتا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ’’سمجھوتے کے کئی دیگر حصوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کو بھی کھولا جائے گا۔







