مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں 2027 کی مردم شماری کے لیے 11718 کروڑ روپے کے بجٹ کو منظوری مل گئی ہے۔ پہلی بار ملک بھر میں ڈیجیٹل مردم شماری کرانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس کے لیے 30 لاکھ ملازمین کو کام پر لگایا جائے گا۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے اس سلسلے میں جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ آج وزیر اعظم مودی کی صدارت میں ہوئی کابینہ میٹنگ میں 3 بڑے اور اہم فیصلے لیے گئے۔اشونی ویشنو نے کہا کہ سب سے پہلا فیصلہ ’مردم شماری 2027‘ سے متعلق ہے۔ مردم شماری، جو ملک کا بہت بڑا عمل ہے، اس کے لیے 11718 کروڑ روپے کا بجٹ منظور کیا گیا ہے۔ دوسرا فیصلہ ملک کے کوئلہ سیکٹر میں بڑے ریفارم سے متعلق ہے، اور یہ ہے ’کول سیتو‘۔ تیسرا فیصلہ کسانوں کے فلاح سے متعلق اٹھایا گیا ہے، جو ایک اہم قدم ہے۔
تفصیل بیان کرتے ہوئے مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ 2027 سے ملک بھر میں مردم شماری ہوگی۔ یہ مردم شماری 2 مراحل میں ہوگی۔ پہلے مرحلہ میں ہاؤس لسٹنگ اور ہاؤسنگ مردم شماری ہوگی، جو اپریل سے ستمبر 2026 تک ہوگی، جبکہ دوسرے مرحلہ کے تحت آبادی کی مردم شماری ہوگی، جو فروری 2027 سے ہوگی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مردم شماری کا ڈیجیٹل ڈیزائن ڈاٹا تحفظ کو توجہ میں رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔
دوسرے فیصلے کے بارے میں تفصیل بیان کرتے ہوئے اشونی ویشنو نے کہا کہ ہندوستان کوئلہ کے پروڈکشن میں خود کفیلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ 25-2024 میں ہندوستان نے تاریخی طور سے ایک ارب ٹن سے زیادہ کوئلہ کا پروڈکشن کیا ہے۔ پہلے کوئلہ کے امپورٹ پر ہمارا جو انحصار تھا، اب وہ تقریباً بہت کم ہو گیا ہے۔ کوئلہ کی برآمدات پر انحصار کم ہونے سے ہم نے 60 ہزار کروڑ روپے بچائے ہیں۔






