نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کی آٹھویں جماعت کی سماجی علوم کی کتاب میں شامل عدلیہ سے متعلق متنازع مواد کے معاملے میں مرکزی حکومت نے تین رکنی ماہر کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران حکومت نے اس پیش رفت سے آگاہ کیا، جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں اپنی طرف سے شروع کی گئی کارروائی کو ختم کر دیا۔
حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی اس کمیٹی میں سابق اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال، جسٹس اندو ملہوترا اور جسٹس انیرودھ بوس شامل ہیں۔ یہ کمیٹی آٹھویں جماعت کی کتاب کے اس باب کو ازسرِ نو تیار کرے گی، جس میں عدلیہ کے کردار سے متعلق مواد شامل تھا اور جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے تھے۔
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب این سی ای آر ٹی کی نئی شائع شدہ کتاب ’ایکسپلورنگ سوسائٹی: انڈیا اینڈ بیونڈ‘ (حصہ دوم) میں “ہمارے معاشرے میں عدلیہ کا کردار” کے عنوان سے ایک باب شامل کیا گیا، جس میں عدالتی نظام کے حوالے سے بعض نکات کو قابل اعتراض قرار دیا گیا۔ اس مواد پر نہ صرف مختلف طبقات نے سوال اٹھائے بلکہ خود سپریم کورٹ نے بھی اس پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔







