دہلی حکومت کے آفیشیل اعداد و شمار کے مطابق 2019 سے مارچ 2026 تک آگ سے متعلق واقعات میں 543 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ 2026 کے ابتدائی تقریباً 6 ماہ میں ہی 65 اموات درج کی جا چکی ہیں۔ دہلی فائر سروس (ڈی ایف ایس) کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ آتشزدگی کے واقعات کی وجہ سے ہونے والی اموات تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ 20-2019 میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں، اناج منڈی آتشزدگی واقعہ سمیت کل 136 اموات ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ 21-2020 میں 41، 22-2021 میں 55، 23-2022 میں 95، 24-2023 میں 95، 24-2023 میں 77، 25-2024 میں 90 اور 26-2025 میں 84 اموات درج کی گئیں۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آگ لگنے کے واقعات میں نہ صرف اموات ہوئیں، بلکہ 2019 سے 2025 کے درمیان کل 4403 افراد زخمی بھی ہوئے۔ ان میں سے کئی لوگوں کو شدید جسمانی اور ذہنی صدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ ساتھ ہی دہلی فائر سروس کو ملنے والی آگ سے متعلق اطلاعات کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 20-2019 میں آگ کے واقعات کی کل 17231، جبکہ سال 26-2025 میں 20379 کالز موصول ہوئیں۔ یعنی 6 سالوں میں ہزاروں اضافی حادثات اور ہنگامی کالز درج کی گئی ہیں۔
ہر بڑے آتشزدگی کے واقعے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے تحقیقات کے احکامات، سیکورٹی آڈٹ اور قوانین پر عمل درآمد کی باتیں سامنے آتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، اسپتالوں، فیکٹریوں اور رہائشی عمارتوں کا باقاعدہ معائنہ وقت پر کیا جاتا، تو کیا اتنے لوگوں کی جانیں جاتیں؟ مالویہ نگر آتشزدگی میں مارے گئے 21 افراد کی موت محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ نظام کے سامنے کھڑا ایک بڑا سوال ہے۔







