مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں مسلسل اضافہ اور بحران کے جلد ختم نہ ہونے کے اندیشوں کے درمیان ملک کے مختلف حصوں میں پٹرول کی قلت اورایل پی جی کی کمی کی خبروں سے افراتفری مچی ہوئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں سے مسلسل پٹرول پمپوں پر لمبی قطاروں کی ویڈیوز سامنے آرہی ہیں۔ جس کے بعد مہاراشٹر کے جالنا میں انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اشیائے ضروریہ قانون 1955 کے تحت خصوصی احکامات جاری کیے ہیں وہیں اترپردیش کے کئی اضلاع میں پٹرول۔ ڈیزل اورایل پی جی کے لیے مارا ماری مچی ہوئی ہے۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے پارلیمانی حلقہ گورکھپور میں بدھ کے روز پٹرول اور ڈیزل کی قلت کی افواہیں تیزی سے پھیلیں، جس سے پٹرول پمپوں پر لوگوں کی بھیڑ امڈ پڑی۔ شہراور گردونواح میں یہ خبر پھیلی کہ تیل کمپنیوں نے پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بند کردی ہے جس سے لوگ گھبرا گئے اور پمپوں کی طرف دوڑ پڑے۔ کچھ مقامات پر لوگوں نے اضافی ایندھن بھروانے کی بھی کوشش کی، جس سے غیر ضروری بھیڑ اور افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔
صورتحال پر قابو پانے کے لیے گورکھپور کے ضلع مجسٹریٹ دیپک مینا نے فوری طور پر ویڈیو پیغام جاری کرکے لوگوں سے امن قائم رکھنے اور افواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی معمول پر ہے اور کہیں بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ مینا نے کہا کہ پٹرولیم اشیا کی سپلائی باقاعدگی سے جاری ہے اور انتظامیہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ بغیر تصدیق کے کوئی بھی گمراہ کن معلومات شیئر نہ کرے۔
اترپردیش کی نہیں بلکہ ملک کے کئی صوبوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قلت کی افواہیں پھیل رہی ہیں۔ گجرات، آسام، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور بہار سمیت کئی ریاستوں میں افراتفری کا ماحول ہے۔ آسام کے جورہاٹ میں پیٹرول پمپ کے مالک راکیش سنگھ نے کہا کہ ہم صارفین کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارے پاس مکمل ذخیرہ ہے لیکن وہ سننے کے لیے تیارنہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم تو پورا ٹینک بھی بھر رہے ہیں۔اسی طرح گجرات کے کئی پٹرول پمپوں پر بھیڑ جمع ہو رہی ہے۔







