نئی دہلی۔ تعلیمی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک کے خلاف سخت کارروائی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ پر جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں جاری احتجاج میں اتوار کو ماحولیاتی کارکن اور تعلیمی اصلاحات کے علمبردار سونم وانگچک بھی اب پوری طاقت کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔ وانگچک نے آج سے ان مطالبات پر غیر معینہ کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کے کئی طلبہ رہنما بھی ان کے ساتھ اس بھوک ہڑتال میں شامل ہیں۔ اسی کے ساتھ کاکروچ جنتا پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر کی 650 سے زیادہ کسان تنظیموں نے اس تحریک کی حمایت میں دہلی میں ایک بڑی کھاپ پنچایت بلانے کا اعلان کیا ہے۔
طلباء‘ کسانوں اور سماجی تنظیموں کے اکٹھے ہونے سے کاکروچ تحریک میں شدت آ گئی ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے کہا کہ 20 جون کو جس دن تحریک شروع ہوئی۔ اس وقت سونم وانگچک نے اعلان کیا تھا کہ اگر حکومت نے ایک ہفتے کے اندر تعلیمی نظام میں بے قاعدگیوں کی ذمہ داری طے نہیں کی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی نہیں ہوئے تو وہ غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے بھوک ہڑتال شروع ہو گئی ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے کئی طلبہ قائدین بھی بھوک ہڑتال میں شامل ہیں جن میں اے آئی ایس اے کی قومی صدر نیہا، جے این یو طلباء یونین کے جوائنٹ سکریٹری دانش علی، اے آئی ایس اے اتر پردیش کے صدر منیش، دہلی یونیورسٹی کے طالب علم کارکن دیپک، جے این یو کے طالب علم کارکن رشیکیش اور امبیڈکر یونیورسٹی کے طالب علم کارکن امین شامل ہیں۔ طلبہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ تحریک لاکھوں طلبہ کے مستقبل، شفاف امتحانی نظام اور تعلیمی نظام میں اصلاح کی جنگ ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان دیپک بالیان نے کہا کہ اس تحریک کو ملک بھر میں 650 سے زیادہ کسان تنظیموں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسان بھی اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر میں اس لڑائی میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس کے ایک حصے کے طور پر آج دہلی میں ایک بڑی کھاپ پنچایت کا انعقاد کیا جائے گا جس میں اس تحریک کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔مظاہرین مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ، پیپر لیک معاملے میں تمام ملزمان کی گرفتاری، امتحانی نظام میں شفافیت، تعلیمی نظام میں سدھار اور طلباء کے مستقبل کی حفاظت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ان مطالبات پر کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کرتی یہ تحریک اور بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔







