نئی دہلی : دہلی میں مشہور و معروف صوفی حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے 722 ویں عرس میں جسٹس مرکنڈے کاٹجو اور سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید نے شرکت کی جس نے ملک کے موجودہ حالات میں ہندو اور مسلمانوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ کثرت میں وحدت کا تصور ہی ملک کی بقاء کے لیے ضروری ہے۔ جسٹس کاٹجو نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا ذکر کرتے ہوئے درگاہ پر حاضری کو تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی اس لیے کہ سلمان خورشید مسلمان ہیں اور میں ہندو۔ ملک میں چند مٹھی بھر افراد ہندو اور مسلمانوں کے درمیان جو تفریق پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، درگاہ پر ہم دونوں کی حاضری سے ان سب کے منہ بند ہوجائیں تو اچھا ہے۔ یاد رہے کہ صوفی اسلام کی دو اہم ترین شخصیات میں حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے ساتھ ساتھ امیر خسرو کا نام بھی آج عزت سے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں حالانکہ ایک دہریہ ہوں لیکن مجھے درگاہوں پر حاضری دینا بیحد پسند ہے۔ چونکہ درگاہ پر حاضری دینے والوں میں ہندوئوں کی بھی کثیر تعداد ہے اور جو مقام دو کمیونٹیز کو جوڑتا ہے تو اس مقام پر جانا مجھے ہمیشہ سے پسند رہا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ کسی کے انتقال کی برسی منانا کوئی خوشی کی بات نہیں ہے تو پھر نظام الدین اولیاءؒ کا عرس کیوں منایا جاتا ہے۔
دراصل عرس ایک عربی لفظ ہے جس کے معنی ہوتے ہیں شادی۔ لہٰذا یہ مانا جاتا ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ اپنی موت کے ذریعہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے جو یقینا ایک خوشی کی بات ہے اور اس لیے عرس کو دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے کہا کہ انگریزوں کی حکومت کے دوران انہوں نے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کے بیج بوئے جیسا کہ ان کا مشہور اصول تھا کہ آپس میں تفرقہ پیدا کرو اور حکومت کرو یعنی ڈیوائڈ اینڈ رول۔ انہوں نے اس سلسلہ میں اردو کے مشہور شاعر مرزا غالبؔ کا بھی تذکرہ کیا اور ان کے خطوط کے بارے کہا کہ وہ اپنے عزیز دوست منشی شیونارائن آرام، ہرگوپال تفتہ اور دیگر کو مکتوب تحریر کیا کرتے تھے۔
