نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے ایران پر نئے امریکی حملوں پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سفارتی عمل اور امن و استحکام کے لیے ایک سنگین دھچکا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے اور مذاکرات کے آغاز سے دنیا بھر کے لوگوں میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ خطہ تصادم سے نکل کر امن کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن حالیہ فوجی کارروائی نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ تازہ امریکی حملوں نے امن کے لیے جاری سفارت کاری کی کوششوں کو سخت خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذاکرات کو فروغ دینے، مزید کشیدگی روکنے اور پائیدار امن کے قیام میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔
میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ایران پر امریکہ کے نئے حملوں نے مغربی ایشیا میں قیام امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے اعلان اور مذاکرات کے آغاز کے فوراً بعد ہونے والے یہ حملے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ اس طرح کے حملوں سے امن کے امکانات مزید کمزور ہوں گے۔ ایسے وقت میں جب سفارت کاری کے مثبت نتائج سامنے آ رہے تھے ، امریکہ کی یکطرفہ فوجی کارروائیوں نے الاقوامی قوانین کے احترام کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کردئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات نہ صرف پائیدار حل کے امکانات کو کمزور کرتے ہیں بلکہ باہمی بد اعتمادی کو بھی بڑھاتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات خطے کو ایک بار پھر طویل تصادم اور عدم استحکام کے دور میں دھکیل سکتے ہیں۔
سید سعادت اللہ حسینی نے مزید کہا کہ ایران پر فوجی طاقت اور معاشی پابندیوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی بار بار کی کوششیں کسی پائیدار سیاسی حل تک پہنچنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس کے برعکس ان اقدامات نے خطے میں عدم استحکام اور جنگ کے خطرات کو مزید بڑھایا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی حمایت کرے، طاقت کے یکطرفہ استعمال کی مخالفت کرے، تمام فریقوں کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدوں ، سفارتی وعدوں کے احترام کو یقینی بنائے اور تمام متعلقہ فریقوں کے جائز خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے بامعنی مذاکرات کی حمایت کرے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا میں پائیدارامن کا قیام فوجی حملوں یا جبر کی سیاست سے نہیں بلکہ مکالمے، اعتماد سازی، انصاف اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پرامیر جماعت نے کہا کہ نئی فوجی کشیدگی کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، مہنگائی، بحری نقل و حمل کے اخراجات اور بین الاقوامی تجارت پر فوری اثر ڈالے گی۔ بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک میں ایندھن کی قیمتوں، روز مرہ کی ضرورتوں ، صنعتی پیداوار اور اقتصادی ترقی پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان، شہری آبادی کی نقل مکانی اور پہلے سے غیر مستحکم خطے میں مزید بدامنی کے خدشات بھی موجود ہیں۔ اس لیے مغربی ایشیا میں امن واستحکام صرف علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے حکومت ہند سے اپیل کی کہ اپنے دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر خطے کے تمام فریقوں کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی، تمام فریقوں کو تحمل پر زور ، کشیدگی کی روک تھام اور پائیدارامن کے لیے زیادہ فعال سفارتی کردار ادا کرے۔







