پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران کانگریس اور سماجوادی پارٹی (ایس پی) سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں نے نیٹ-یو جی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں، طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج اور رام مندر میں عطیات کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات کا معاملہ اٹھایا۔ اپوزیشن لیڈران نے ان معاملات پر حکومت سے جواب اور جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کیا۔ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے پارلیمنٹ کے احاطے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت طلبہ کے تئیں غیر حساس رویہ اپنا رہی ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ اگر حکومت امتحانات کا شفاف اور منظم انعقاد نہیں کرا پا رہی ہے، تو اس کی ذمہ داری کسی اہل ادارے کو سونپ دینی چاہیے۔ انہوں نے طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج کو جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس پر جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت سے کوئی بھی مسئلہ ٹھیک سے حل نہیں ہو پا رہا ہے، ایسے میں انہیں اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے رام مندر میں عطیات سے منسلک مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس معاملے میں شفافیت ضروری ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔‘‘ کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر بھی ملکارجن کھڑگے کی ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے، جس میں وہ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ’’نریندر مودی صرف دوسروں کا قصور نکالتے رہتے ہیں، لیکن آج تک خود ملک کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ایک طرف تو نریندر مودی کے بنائے ہوئے ٹرسٹ میں انہی کے منتخب کردہ لوگ ’عطیات چوری‘ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف لاکھوں طلبہ پریشان ہیں، ان کی زندگی برباد ہو رہی ہے۔ ان سب کے ذمہ دار نریندر مودی اور ان کی حکومت ہیں۔







