ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے مغربی بنگال میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے دوروں کے دوران سینئر مسلم آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کو ان کے مذہب کی وجہ سے سرکاری پروگراموں سے باہر رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اقلیتوں سے متعلق امور پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کو خط لکھا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) میں اقلیتی امور کے آزاد انسانی حقوق کے خصوصی ماہر نکولس لیووریٹ کو لکھے گئے خط میں موئترا نے الزام عائد کیا کہ جولائی اور اگست میں امت شاہ کے بنگال دوروں کے دوران 3 مواقع پر 3 سینئر افسران کو یا تو پروگرام کے مقام سے چلے جانے کے لیے کہا گیا یا سرکاری پروگراموں کے دوران موجود نہ رہنے کو کہا گیا۔
ترنمول کی رکن پارلیمنٹ نے الزام عائد کیا کہ ان افسران کو پروگرام سے باہر رکھا گیا، جبکہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ان کے ساتھیوں کو اس دوران موجود رہنے کی اجازت دی گئی۔ موئترا نے خط میں لکھا کہ ’’ان تینوں افسران میں ایک بات مشترک ہے، اور یہی بات انہیں ان ساتھیوں سے الگ کرتی ہے جنہیں پروگرام کے دوران موجود رہنے کی اجازت دی گئی تھی اور وہ ہے ان کا مذہب۔‘‘
ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ نے سلی گوڑی کے پولیس کمشنر وقار رضا، مغربی بنگال پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے سربراہ جاوید شمیم اور انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) کے سینئر افسر خلیل احمد کا ذکر کیا۔ مہوا موئترا نے چند روز قبل بھی اس بارے میں ’ایکس‘ پر پوسٹ کی تھی، جس کے بعد ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کی گئی ہے اور انہیں تھانے بلایا گیا ہے۔







