نیٹ امتحان اور پیپر لیک کے مسئلے پر سیاسی گھماسان جاری ہے۔ جنتر منتر پر جاری طلبہ کے احتجاج اور پارلیمنٹ مارچ کی تیاریوں کے درمیان اپوزیشن بھی جارحانہ انداز اختیار کر چکا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے مانسون سیشن کے دوسرے دن بھی اس مسئلے کو لے کر پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج کیا۔ دونوں ایوانوں میں اس مسئلے پر ہنگامے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔
راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے ایوان میں دوسرے دن بھی یہ مسئلہ اٹھایا۔ ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ کل ایک واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ہمارے جو طلبہ پیپر لیک اور نیٹ امتحان کو لے کر آواز اٹھا رہے ہیں، ان پر لاٹھی چارج کیا گیا، آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور انہیں مارا پیٹا گیا۔ کھڑگے نے کہا کہ آج کئی طلبہ اسپتالوں میں داخل ہیں، ان کی بات سنی جانی چاہیے۔
ایوان کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ایوان میں بولنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بحث کرنے کا موقع دیا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس بات پر گفتگو ہو کہ آخر طلبہ پر لاٹھی چارج کیوں کیا گیا؟ حکومت خود اکسا رہی ہے تاکہ ملک میں انارکی پیدا ہو اور پھر لاٹھی چارج کیا جائے، مارا پیٹا جائے اور ڈرا دھمکا کر انہیں جیل میں ڈال دیا جائے۔ کھڑگے نے کہا کہ یہ انارکی عوام یا اپوزیشن نہیں، بلکہ خود حکومت پھیلا رہی ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے الزام عائد کیا کہ کل اراکین پارلیمنٹ کو جیل کی طرح اندر بند رکھا گیا۔ جب اراکین پارلیمنٹ ہی محفوظ نہیں ہیں، تو پھر کون محفوظ ہے؟ ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اس دعوے پر کہ ’حکومت نوجوانوں کے ساتھ ہے‘ کھڑگے نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں کے ساتھ ہے لیکن صرف لاٹھی چارج کرنے، بچیوں کے کپڑے پھاڑنے اور طعنے مارنے کے لیے ساتھ ہے۔
