نئی دہلی: نیٹ پیپر لیک معاملے پر ملک بھر میں جاری طلبہ کے احتجاج اور حکومت پر بڑھتے دباؤ کے درمیان مرکزی حکومت نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے 47 افسران کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے اس کے ساتھ ہی این ٹی اے کی تنظیمِ نو اور اس کے امتحانی نظام میں بنیادی سطح پر اصلاحات کا بھی اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض افسران کے خلاف مزید سخت کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیٹ سمیت مختلف قومی سطح کے امتحانات میں بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے الزامات کے خلاف طلبہ مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت کو امتحانی نظام میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ ایسے میں حکومت نے سخت کارروائی اور اصلاحات کے ذریعے امتحانی نظام پر عوامی اعتماد بحال کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت آئندہ ایک ماہ کے اندر نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے ماہرین کی سفارشات کی بنیاد پر ایک جامع اصلاحاتی منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ایجنسی کے انتظامی اور تکنیکی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ازسرِ نو مرتب کیا جائے گا۔
این ٹی اے کے امتحانات کے انعقاد کے موجودہ نظام میں بھی اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ خاص طور پر امتحانات کے انتظام اور دیگر خدمات کے لیے اپنائے جانے والے آؤٹ سورسنگ کے طریقۂ کار پر نظرثانی کی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسا نظام وضع کیا جائے گا جو مکمل طور پر محفوظ، شفاف اور پیپر لیک جیسے واقعات سے پاک ہو۔
مجوزہ اصلاحات کے تحت امتحانی سوالناموں کی تیاری، ان کی ترسیل، امتحانی مراکز کے انتخاب اور نگرانی کے طریقہ کار کو مزید مضبوط بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ قومی سطح کے امتحانات کے انعقاد میں انسانی مداخلت کو کم سے کم کیا جائے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے امتحانی عمل کو زیادہ قابلِ اعتماد بنایا جائے۔
