اتراکھنڈ میں مذہبی ڈھانچوں اور تجاوزات کے خلاف مہم زور و شور سے جاری ہے۔ اس مہم کے تحت آج مسوری کے لکشمن پوری علاقہ میں انتظامیہ نے قدیم مزار کو بلڈوزر سے منہدم کر دیا۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ انتظامیہ اور مسوری-دہرادون ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی ڈی اے) کی مشترکہ ٹیم نے قدیم قبرستان احاطہ میں تیار مبینہ طور پر ناجائز نماز والی جگہ پر بلڈوزر چلایا ہے۔ اس کارروائی کے بعد علاقے میں کشیدگی والے حالات بن گئے اور احتجاجی مظاہروں کے سبب مسوری-دہرادون شاہراہ پر کچھ وقت کے لیے ٹریفک جام لگ گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی انتظامیہ کی ٹیم بلڈوزر کارروائی کے لیے کثیر پولیس فورس کے ساتھ لکشمن پوری میں اس جگہ پہنچی جہاں تقریباً 200 سال قدیم قبرستان احاطہ میں مزار موجود تھا۔ افسران کا کہنا ہے کہ قبرستان احاطہ میں بنا یہ ڈھانچہ تجاوزات کے زمرہ میں آتا تھا، جس کی وجہ سے اصولاً اسے ہٹانے کی کارروائی کی گئی۔ انہدامی کارروائی کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے، اس کے لیے بڑی تعداد میں پولیس فورس اور انتظامیہ کے افسران کی تعیناتی کی گئی تھی۔
اس بلڈوزر کارروائی کے بعد مقامی مسلم طبقہ کے لوگ احتجاج میں سڑک پر اتر آئے۔ مظاہرین نے مسوری-دہرادون شاہراہ پر جام لگا کر انتظامیہ اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جس ڈھانچہ کو ہٹایا گیا ہے، وہ مسجد یا مزار نہیں تھی بلکہ قبرستان میں آخری رسومات سے پہلے جنازہ کی نماز ادا کرنے کے لیے بنایا گیا ٹین شیڈ تھا۔ مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ جگہ تقریباً 200 سالوں سے مذہبی امور کے لیے استعمال میں رہا ہے۔ ایک طرف افسران اسے اصولاً تجاوزات ہٹانے کی کارروائی بتا رہے ہیں، تو دوسری طرف مظاہرین انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔






