پریاگ راج واقع کے پی گراؤنڈ میں منعقد ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران پٹنہ یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے مودی حکومت کو نہ صرف اوپن چیلنج پیش کیا، بلکہ پٹنہ میں طلبا پر ہوئی پولیس بربریت کا ذکر بھی کیا۔ اس نے بتایا کہ پولیس والوں نے زخمی طلبا کو اسپتال لے جانے کے لیے ایمبولنس تک نہیں آنے دیا، حتیٰ کہ خود اسے زخمی حالت میں ’تھری ایڈیٹ‘ فلم کی طرح اسکوٹی پر اسپتال لے جایا گیا۔
پٹنہ میں ہوئی پولیس بربریت کی تفصیل راہل گاندھی کے سامنے صفت فیض نامی طالبہ نے بہت بے باکی کے ساتھ رکھی۔ پٹنہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کی پہلی خاتون نائب صدر صفت نے بتایا کہ ’’دہلی میں 20 جولائی کو طلبا اور نوجوانوں پر ہوئی بربریت کے خلاف 22 جولائی کو بڑی تعداد میں طلبا پٹنہ میں پرامن مظاہرہ کرنے والے تھے۔ لیکن بہار حکومت اور بہار پولیس نے ان کے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کیا۔ طلبا کو مارا پیٹا گیا اور انھیں راتوں رات غیر قانونی طریقے سے حراست میں لے لیا۔ بہار میں یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلا۔‘‘ وہ مزید بتاتی ہیں کہ ’’سیوان میں بھی ظلم ہوا جہاں مظاہرہ کرنے والے طلبا اور نوجوانوں پر اے کے-47 سے فائرنگ کر دی جاتی ہے۔ اس فائرنگ میں طالب علم سنگین طور پر زخمی بھی ہوئے۔
صفت فیض نے موجودہ تعلیمی نظام کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج طلبا کی حالت ایسی ہے کہ پہلے وہ پڑھائی کریں، لیکن جب پیپر لیک ہو جائے اور حق کے لیے مظاہرہ کریں تو ان پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے۔ وہ اس بات پر افسوس ظاہر کرتی ہیں کہ ملک کے نوجوان اسی ’چکرویوہ‘ میں پھنسے رہتے ہیں۔ صفت فیض نے بہار میں بچیوں کی اس جنگ کا بھی ذکر کیا، جو تعلیم حاصل کرنے کے لیے انھیں کرنی پڑتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے تو تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایک لڑکی کو گھر والوں سے لڑائی لڑنی ہوتی ہے۔ کسی طرح وہ لڑ کر گھر سے نکلتی ہے، اور پھر باہر کی لڑائی شروع ہوتی ہے۔ بہار حکومت ویکنسی نہیں نکالتی ہے، اس کے لیے بھی سڑک پر نکل کر مظاہرہ کرتی ہے۔ جب ویکنسی نکلتی ہے تو پیپر لیک ہو جاتا ہے، لڑکیوں کو اس کے لیے بھی مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ پھر پولیس لڑکیوں کو پیٹتی ہے، حراست میں لیتی ہے، گرفتار کر لیتی ہے۔ گویا کہ ہر محاذ پر لڑکیوں کو جنگ لڑنی ہوتی ہے۔







