غزہ ۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے کہا کہ غزہ میں گذشتہ 300 دنوں میں کم از کم 300 بچے ہلاک ہو چکے ہیں یعنی اوسطاً روزانہ ایک بچہ کیونکہ علاقے میں شہریوں کو شدید فوجی حملوں کا سامنا ہے جن میں گولہ باری، گولیاں اور بحری فائرنگ شامل ہے۔ ادارے نے مزید کہا کہ اسی عرصے کے دوران مزید سینکڑوں بچے مبینہ طور پر زخمی ہوئے۔اقوامِ متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور (اوچا)نے کہا، غزہ میں بچے مشکل حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں جن میں پْرہجوم پناہ گاہیں اور صاف پانی اور صحت تک محدود رسائی شامل ہیں۔اوچا نے خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملے اور اسرائیلی فوجی کارروائیاں فلسطینیوں کے گھروں اور معاش کو متاثر کر رہی ہیں۔اسرائیلی آبادکاروں نے مبینہ طور پر الخلیل کے علاقے مسافر یطہ میں الطوبا کی فلسطینی کمیونٹی میں راتوں رات گھروں کو آگ لگا دی جس سے 14 بچوں سمیت تین خاندان بے گھر ہو گئے۔ انہوں نے رشتہ داروں یا ہمسایوں کے پاس پناہ لی۔اوچا نے کہا کہ دو بچوں سمیت کئی لوگ زخمی ہوئے اور دیگر املاک کے ساتھ ایک سولر پاور سسٹم اور جانوروں کا 10 ٹن چارہ تباہ ہو گیا۔
سال کے آغاز اور جولائی کے اختتام کے درمیان اوچا نے 250 فلسطینی کمیونٹیز میں اسرائیلی آبادکاروں کے 1,380 سے زیادہ واقعات کی دستاویز بندی کی جن کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں اور املاک کو نقصان پہنچا۔ یہ روزانہ اوسطاً چھے سے سات حملے بنتے ہیں۔اوچا نے کہا کہ اسی عرصے کے دوران آبادکاروں کے حملوں اور ان سے متعلق رسائی کی پابندیوں کے نتیجے میں 2,300 سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہوئے۔ ادارے نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور انہیں نشانہ بنانے والے مجرموں کا احتساب ہونا چاہیے۔







