Akhbarurdu Logo
  • Home
  • اردو خبریں
    • قومی خبریں
    • عالمی خبریں
    • عرب ممالک
    • پریس ریلیز
  • Newspapers
X
  • Home
  • اردو خبریں
    • عالمی خبریں
    • عرب ممالک
    • قومی خبریں
    • پریس ریلیز
  • Newspapers
Akhbarurdu Logo
  • Urdu Dictionary
  • Naat Online
  • Hajj 2025
  • Regional Newspapers
Home اردو قومی خبریں

آسام کی حتمی این آر سی میں شامل 3 کروڑ سے زائد شہری 6 سال بعد بھی قومی شناختی کارڈ سے محروم

جمعیۃ علما ہند اور آمسو کی جانب سے داخل اہم پٹیشن پر سپریم کورٹ نے مرکز اور آسام حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے مزید 6 ہفتے دیے

Akhbar Urdu by Akhbar Urdu
9 hours ago
شیخ علی مقبرہ معاملہ میں آر ڈبلیو اے کو سپریم کورٹ کی  پھٹکار

سپریم کورٹ

نئی دہلی: آسام میں حتمی این آر سی کے نفاذ اور اس میں شامل شہریوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کرنے سے متعلق جمعیۃ علما ہند اور آمسو کی جانب سے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ فضیل احمد ایوبی کے توسط سے پیر کو داخل اہم پٹیشن پر سپریم کورٹ میں جسٹس ایس ایم نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے کی دو رکنی بنچ کے سامنے سماعت ہوئی۔ تاہم مرکزی اور آسام حکومت کی جانب سے نوٹس جاری ہونے کے باوجود اب تک جواب داخل نہ کیے جانے کی وجہ سے عدالت نے معاملے کی سماعت چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔ دورانِ سماعت سرکاری وکیل نے جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت طلب کیا، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

جمعیۃ علما ہند کی جانب سے پیش سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ نوٹس جاری ہونے کے باوجود مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے ابھی تک اپنا جواب داخل نہیں کیا ہے اور اب انہیں اپنا اعتراض اور جواب عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ کپل سبل نے عدالت کو مزید بتایا کہ رجسٹرار جنرل آف انڈیا کی جانب سے جمعیۃ علما ہند کی پٹیشن پر جواب داخل کیا جا چکا ہے، جس کے جواب میں جمعیۃ علما ہند کی جانب سے جلد ری جوائنڈر داخل کیا جائے گا۔

انہوں نے عدالت کی توجہ اس اہم حقیقت کی طرف بھی مبذول کرائی کہ حتمی این آر سی کی اشاعت کے 6 سال گزر جانے کے باوجود اس میں شامل افراد کو اب تک قومی شناختی کارڈ جاری نہیں کیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی کارروائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علما ہند مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مرکزی اور آسام حکومتوں کا نوٹس کے باوجود جواب داخل نہ کرنا اور حتمی این آر سی کے 6 سال بعد بھی قانونی عمل کو مکمل نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ شہریت کے اس حساس مسئلے کو سیاسی فائدے کے لیے دانستہ طور پر زندہ رکھا جا رہا ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ ماضی میں اس حساس مسئلے کو لے کر آسام میں فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دے کر اکثریت کی نگاہ میں ان کی حیثیت کو مشکوک بناتی رہی ہیں، جس کی وجہ وہاں سماجی سطح پر ہمیشہ فرقہ وارانہ کشیدگی پائی جاتی رہی ہے۔ پنچایت سرٹیفکیٹ کو تبدیل کرنے کا معاملہ ہو، شہریت کے لیے حتمی تاریخ کے تعین کا معاملہ ہو یا پھر ریاست میں مدارس کو بند کرنے کی سازش، جمعیۃ علما ہند ہر ایسے موقع پر مظلوموں کے ساتھ پوری طاقت سے کھڑی رہی اور ان کے مقدمات کامیابی کے ساتھ لڑتی آئی ہے۔

واضح رہے کہ صدر جمعیۃ علما ہند مولانا ارشد مدنی کی رہنمائی اور سرپرستی میں مولانا مشتاق عنفر، صدر جمعیۃ علما آسام، این آر سی اور پنچایت سرٹیفکیٹ 6اے جیسے اہم مقدمات 14 سال سے لڑتی رہی اور کامیابی بھی ملی، کیونکہ آسام کا مسئلہ ایک حساس مسئلہ تھا۔ اگر فرقہ پرست عناصر اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے تو ایک اندازے کے مطابق لاکھوں مسلمانوں کی شہریت کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران مولانا مشتاق عنفر، صدر جمعیۃ علما آسام، مولانا کلیم الدین، آمسو کے صدر اور دیگر عہدیداران موجود رہے۔

واضح ہو کہ آسام کے سابق این آر سی کوآرڈینیٹر ہتیش دیو شرما کی اُس عرضی کو بھی اس معاملے کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے، جس میں این آر سی فہرست کی ازسرِ نو تصدیق، اس میں موجود خامیوں اور غلطیوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ آسام این آر سی کو 2013 سے 2019 تک سپریم کورٹ کی براہِ راست نگرانی میں مکمل کیا گیا۔ رجسٹرار جنرل آف انڈیا اور ریاستی کوآرڈینیٹر کی جانب سے مشترکہ طور پر شائع شدہ حتمی این آر سی برسوں کی باریک بینی سے معلومات کے موازنے کی بنیاد پر کی گئی 3.3 کروڑ درخواستوں کی جانچ پڑتال کا نتیجہ ہے۔ اس کا مقصد آسام میں شہریت کے دہائیوں پرانے مسئلے کا قانونی اور حتمی حل فراہم کرنا تھا۔

تاہم، حتمی این آر سی کے شائع ہونے کے چھ سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود، حکام اب تک قانون کے تحت لازمی اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں، یعنی تین کروڑ گیارہ لاکھ مستحق شہریوں کو نیشنل شناختی کارڈز جاری کرنا، جیسا کہ شہریت (شہریوں کا اندراج اور نیشنل آئیڈنٹیٹی کارڈز کا اجرا) قواعد، 2003 کے قاعدہ 13 کے تحت لازم ہے، اور مسترد شدہ افراد (تقریباً 19 لاکھ) کو ریجیکشن سلپس جاری کرنا اور اپیل کا آغاز کرنا، جیسا کہ قاعدہ 4A کے شیڈول کے پیرا 8 میں درج ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکام کی یہ ناکامی این آر سی کے اس پورے عمل کو نامکمل، غیر آئینی، من مانا اور آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کی خلاف ورزی بناتی ہے۔ حتمی این آر سی کی اشاعت کے بعد اسے معطل چھوڑ دینا ایک بڑی آبادی کو غیر یقینی شہریوں کی حیثیت میں مبتلا کر رہا ہے، جس سے خوف، بداعتمادی اور سماجی تقسیم میں اضافہ ہوا ہے۔

درخواست میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ آسام این آر سی ایک سائنسی، ڈیٹا پر مبنی اور ثبوت سے تصدیق شدہ عمل ہے، جو سپریم کورٹ کی براہِ راست نگرانی میں انجام پایا ہے۔ عوامی اعتماد، عدالتی وقت اور 1600 کروڑ روپے سے زائد قومی وسائل صرف کیے جانے کے بعد، یہ ضروری ہے کہ اس عمل کو شہریت ایکٹ 1955 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق مکمل کیا جائے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حتمی این آر سی میں شامل تمام افراد کو فوراً نیشنل شناختی کارڈز جاری کیے جائیں اور جن افراد کو این آر سی سے خارج کیا گیا ہے، ان کے لیے ریجیکشن سلپس/آرڈرز جاری کیے جائیں اور اپیل کا عمل شروع کیا جائے تاکہ غیر ملکی ٹربیونلز کے سامنے قانونی فیصلے ممکن ہو سکیں۔(پریس ریلیز )

Recent News

کولمبیا میں زلزلہ , متعدد عمارتیں منہدم , سو سے زائد  ہلاک

کولمبیا میں زلزلہ , متعدد عمارتیں منہدم , سو سے زائد ہلاک

August 11, 2026
مریضوں کے نام پر جعل سازی، آیوشمان اسکیم سے 2359 اسپتال باہر

مریضوں کے نام پر جعل سازی، آیوشمان اسکیم سے 2359 اسپتال باہر

August 11, 2026
شیخ علی مقبرہ معاملہ میں آر ڈبلیو اے کو سپریم کورٹ کی  پھٹکار

آسام کی حتمی این آر سی میں شامل 3 کروڑ سے زائد شہری 6 سال بعد بھی قومی شناختی کارڈ سے محروم

August 11, 2026
پریس کانفرنس میں ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی نے حکومت کو بنایا نشانہ

پریس کانفرنس میں ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی نے حکومت کو بنایا نشانہ

August 10, 2026
امت شاہ کے خلاف اپوزیشن کا دھرنا و مظاہرہ جاری

امت شاہ کے خلاف اپوزیشن کا دھرنا و مظاہرہ جاری

August 10, 2026
جمعیۃ علماء مشرقی دہلی کی مجلس منتظمہ کا اجلاس منعقد

جمعیۃ علماء مشرقی دہلی کی مجلس منتظمہ کا اجلاس منعقد

August 10, 2026
Urdu News:
National قومی خبریں Arab عرب ممالک World عالمی خبریں Education تعلیم Jobs روزگار
Indian Newspapers:
اردو বাংলা অসমীয়া
Arab Media:
Algeria الجزائر Bahrain البحرين Comoros جزر القمر Djibouti جيبوتي Egypt مصر Iraq العراق Jordan الأردن Kuwait الكويت Lebanon لبنان Libya ليبيا Mauritania موريتانيا Morocco المغرب Oman عمان Palestine فلسطين Qatar قطر Saudi Arabia السعودية Somalia الصومال Sudan السودان Syria سوريا Tunisia تونس U.A.E الإمارات العربيّة المتّحدة Yemen اليمن
Shop
Naat Online
Dictionary
Urdu News
Hindi News
English News
Urdu Unicode Converter
Krutidev Converter
Hosting
Indian Newspapers
Arab Media
Shop
Naat Online
Dictionary
Urdu News
Hindi News
English News
Urdu Unicode Converter
Krutidev Converter
Hosting
Akhbar Urdu Logo
  • About Us
  • Advertising
  • Contact Us
  • Sitemap
  • Disclaimer
  • Privacy Policy

All trademarks, trade names, service marks, copyrighted work, logos referenced herein belong to their respective owners/companies. Any Query Please write us

©akhbarurdu.com, Indian Urdu Media Info website.

  • Home Icon Home
  • News Icon News
  • Newspapers Icon Newspapers
  • Naat Icon Naat
  • Dictionary Icon Dictionary
No Result
View All Result

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.