فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے بڑے فوڈ برانڈز پر شکنجہ سخت کر دیا ہے۔ ’ایف ایس ایس اے آئی‘ نے حالیہ مہینوں میں گمراہ کن اشتہارات، غلط دعووں اور لیبل سے متعلق ضوابط کی پابندی نہ کرنے پر نیسلے انڈیا، پیپسیکو اور کوکا کولا انڈیا سمیت غذائی کمپنیوں کو 150 سے زائد نوٹس جاری کیے ہیں۔ ’ایف ایس ایس اے آئی‘ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے حالیہ مہینوں میں بڑی کمپنیوں کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات شیئر کیں۔ ’ایف ایس ایس اے آئی‘ نے ان بڑی کمپنیوں کی فہرست بھی شیئر کی، جن کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ ان میں نیسلے انڈیا، پیپسیکو، ایبٹ انڈیا، ریڈ بل انڈیا، ڈینون انڈیا، مونسٹر انرجی انڈیا، ہیل انرجی، مونڈیلیز انڈیا، کوکا کولا انڈیا، ڈیاجیو، پرنو ریکارڈ، فیريرو انڈیا اور کین ویو انک شامل ہیں۔
’ایف ایس ایس اے آئی‘ نے کہا کہ اس نے گزشتہ چند ماہ کے دوران غذائی قوانین اور ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کے معاملات میں مختلف فوڈ بزنس آپریٹرز کے خلاف کارروائی کی ہے۔ ریگولیٹر نے انرجی ڈرنکس اور الکوحل والے مشروبات بنانے والی کمپنیوں کے خلاف بھی کارروائی کی ہے۔ اس نے بتایا کہ ضوابط کی خلاف ورزی کی وجہ سے کئی کمپنیوں کی مصنوعات ضبط کی گئی ہیں۔
’ایف ایس ایس اے آئی‘ نے ای کامرس کمپنیوں ایمیزون اور فلپ کارٹ کو بھی 12 نوٹس جاری کیے ہیں۔ اس نے بتایا کہ ایمیزون کے ایک گودام کا لائسنس بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ’ایف ایس ایس اے آئی‘ کے مطابق کے ایف سی، میک ڈونلڈز، پیزا ہٹ، ڈومینوز اور کوسٹا کافی جیسے فوڈ سروس اداروں کو 30 سے زائد نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ڈومینوز کے 5 لائسنس معطل کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب، میریئٹ، ہلٹن، حیات، ریڈیسن، فور سیزنز اور شنگری لا وغیرہ سمیت 20 سے زائد 5 اسٹار ہوٹلوں اور ریستورانوں کو بھی نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ ایف ایس ایس اے آئی نے اس ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ نوٹس کے بعد کئی کمپنیوں نے ضوابط کی تعمیل کے لیے اصلاحی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔







