چیک لسٹ میں پینے کا پانی، بیت الخلا، بجلی کی فراہمی، حفاظتی اقدامات اور ’پی ایم پوشن‘ منصوبہ کے تحت فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار کا معائنہ شامل ہے۔ لکھنؤ، اناؤ، ہمیرپور اور قنوج سمیت کئی اضلاع سے بنیادی سہولیات اور اساتذہ کی مبینہ کمی کے خلاف طلبہ کے احتجاج کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ حکومت نے افسران کو سوشل میڈیا، ذرائع ابلاغ یا کسی بھی دوسرے پلیٹ فارم کے ذریعے موصول ہونے والی شکایات کی فوری تصدیق کرنے کی ہدایت دی ہے۔ شکایات کی صداقت اور حقائق کی صورت حال متعلقہ ضلع مجسٹریٹ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے شیئر کی جائے گی۔ یہ ہدایات ڈویژنل اور ضلعی سطح کے محکمہ تعلیم کے افسران کو سختی سے عمل درآمد کے لیے بھیجی گئی ہیں۔
افسران کو اسکولوں تک جانے والی سڑکوں پر موجود حفاظتی خطرات کی نشاندہی کرنے اور انہیں دور کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ محکمہ نے اسکولوں میں تعمیراتی کام کی باقاعدگی سے نگرانی کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں (ایس ایم سی) سے کہا گیا ہے کہ وہ روزمرہ کے معیار کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں۔ ’کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیوں‘ کے لیے الگ چیک لسٹ جاری کی گئی ہے۔ اس میں محفوظ ماحول، خواتین سیکورٹی گارڈز، حفظان صحت کے مطابق بیت الخلا، طبی سہولیات اور خواتین ڈاکٹروں کے دورے شامل ہیں۔







